"کیا رونا کفر ہے؟ "
رونا ایک ایسا عمل ہے ، جو انسان اپنی بے بسی کے اظہار کیلئے کرتا ہے ۔ رحم اور ہمدردی مانگنے کیلئے کرتا ہے ۔ اللہ کے سامنے خشیت کے اظہار کیلئے کرتا ہے ۔ کسی کی محبت میں کرتا ہے ۔ کسی کے ظلم پر احتجاج کیلئے کرتا ہے ۔ حضرت یعقوبؑ نے تو اپنے بیٹے کی جدائی میں رو رو کر اپنی بینائی داو پہ لگا دی ۔ یہ رونا اللہ سے احتجاج نہیں بلکہ بیٹے کی محبت اور جدائی میں تھا ۔ حضرت ایوبؑ خشیت الہیٰ میں اتنا روئے کہ آنسووں نے گالوں پر نشان بنا دئیے ۔ آل رسولؐ کے ساتھ جو کربلا کے میدان میں ہوا ، اس پر اگر دل روتا نہیں تو ایمان میں جھول ہے ۔ شہید زندہ ہے ، بر حق ہے کیونکہ اللہ نے فرما دیا ۔ زندہ پر رونا اور گریہ کرنا مناسب نہیں ۔کیا یہ بات حضرت یعقوبؑ کو بھی معلوم نہیں تھی ؟ پھر وہ تو جسمانی طور پر زندہ پر بھی روتے رہے ، اللہ کے نبی تھے ۔ اللہ نے بھی نہیں روکا ۔ شہید تو جسمانی طور پر زندہ بھی نہیں ہوتا ۔ اسکی قبر بھی ہوتی ہے ، اسکا جنازہ بھی پڑھا جاتا ہے ، دفن بھی کیا جاتا ہے ، اور اللہ کہتا ہے کہ وہ زندہ ہے ۔ کیسی زندگی جی رہا ہے ؟ کیسے زندہ ہے ؟ چونکہ یہ انسانی ادراک کی وسعت سے باہر ہے ، اسلئے فرما دیا گیا کہ شہید کی زندگی کا تمہیں شعور نہیں ۔
جو آل رسولؑ پر انہماک سے وابستہ ہوگا ، وہ ان کے رنج و الم کو ضرور محسوس کرے گا ۔ یہ احساس کی شدت ہے کہ رونا آئے گا ۔ کون ہے جو محسوس کرے کہ چھ ماہ کے معصوم بچے کی گردن میں تیر لگا ہو اور وہ ماں کے پاس لے جایا جائے تو آنسو روکنا ممکن ہو ۔ کربلا میں ہونے والے مظالم کا ایک ایک پہلو ، کرب کی ایک کہانی ہے ۔ محسوس کی جائے تو نہ رونے والا شقی القلب ہی ہو سکتا ہے , احساس رکھنے والا انسان نہیں ہو سکتا ۔
اگر رونا گناہ نہیں ، تو آل رسولؑ کیلئے رونا کفر کیونکر ہو گیا ۔ رونا خشییت کی شکل ہے اور اللہ کو عبادت میں خشییت کا عمل نہایت پسندیدہ ہے ۔ خشییت ، دل کا پسیجنا ہے ، کیسے ممکن کہ آل رسولؐ پر ہونے والے مظالم پر ذہن جائے اور دل پر خشییت طاری نہ ہو ؟
آزاد ھاشمی
٢٠ ستمبر ٢٠١٨
Thursday, 20 September 2018
کیا رونا کفر ہے؟
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment