Wednesday, 12 July 2017

مسجد نبوی

https://plus.google.com/113924129097686601622/posts/GoMsxX5M9tB?_utm_source=1-2-2

دلچسپ معلومات

اردو کی دلچسپ اور اہم معلومات.

سوال: شکیب جلالی ایک شاعر تھا اس کی موت کس طرح ہوئی تھی؟

جواب: 1966 میں ریل گاڑی کے سامنے آکر خود کشی کرلی تھی.

سوال: 1970 میں اردو کے مشہور شاعر کون تھے جنہوں نے خود کشی کی تھی؟

جواب: مصطفیٰ زیدی نے.

سوال: وہ کونسے شاعر تھے جن کی موت گھوڑے کی دولتی سے ہوئی؟

جواب:نجم الدین شاہ مبارک کی.

سوال: وہ کونسے شاعر تھے جنہوں نے  اپنی ساری عمر نعت کو ہی کو موضوع سخن بنایا؟

جواب: محسن کاکوردی.

سوال:وہ کونسے شاعر تھے جو شاعری میں کسی کے شاگرد نہیں تھے؟

جواب: شیخ امام بخش ناسخ البتہ وہ پہلوانی میں مرزا مغل کے شاگرد تھے.

سوال: خواجہ حیدر علی آتش کون کون سے نشے کرتے تھے؟

جواب: بھنگ،چرس،حقہ پیتے تھے.

سوال:سودا کو کتے پالنے شوق تھا آپ بتائیے کہ داغ دہلوی کو کس پرندے کے پالنے کا شوق تھا؟

جواب: تیتر پالنے کا.

سوال: اردو کے وہ کونسے شاعر تھے جن کی نماز جنازہ عیدالاضحٰی کے دن پڑھی گئی؟

جواب: داغ دہلوی کی.

سوال: اردو کے کس شاعر کا جدہ سعودی عرب میں دوران مشاعرہ انتقال ہوا؟

جواب: ماہرالقادری کا.

سوال: اردو کی کونسی شخصیت نے مرنے کے بعد اپنی لاشوں کو  جلانے کی وصیت کی تھی؟

جوابانیس م رشید (مرد) اور عصمت چغتائی (عورت) نے.

سوال: ابن انشاء کا انتقال لندن میں ہوا آپ بتائیے کہ بہادر شاہ ظفر کہاں دفن ہیں؟

جواب: رنگون (برما) میں.

سوال: اردو کے مشہور مزاح نگار پطرس بخاری نیویارک امریکہ میں دفن ہیں آپ بتائیے کہ مولانا محمد علی جوہر کہاں دفن ہیں؟

جواب: بیت المقدس میں.

سوال: کس شاعر نے خود اپنی تاریخ وفات نکالی تھی اور وہ بالکل درست ثابت ہوئی؟

جواب: مومن خان مومن نے وہ چھت سے گر فوت ہوگیا تھا.

سوال: اردو کے عناصر خمسہ کونسے ہیں؟
جواب: محمد حسین آزاد
الطاف حسین حالی
سرسید احمد خان
شبلی نعمانی
ڈپٹی نذیر احمد.

سوال: اردو کے اس مشہور شاعر کا نام بتائیے جو موسیقار بھی تھے؟

جواب: امیر خسرو

سوال: سید سلیمان ندوی اور علامہ شبیر عثمانی کا مزار کہاں ہے؟

جواب: اسلامیہ کالج کراچی میں.

سوال: قومی ترانے میں اردو کے کتنے الفاظ ہیں؟

جواب: صرف ایک "کا" کا لفظ.

سوال: پاکستان کا قومی ترانہ کس ہیئت میں لکھا گیا ہے؟

جواب: مخمس میں.

سوال: قومی ترانے کی دھن کس نے تیار کی تھی؟

جواب: عبدالکریم چھاگلہ نے.

سوال:قومی ترانے کا دورانیہ کتنا ہے؟

جواب: ایک منٹ بیس سیکنڈ

سوال: اردو کے کونسے مشہور شاعر اپنے ہی گھر میں دفن ہیں؟

جواب: میر انیس

Tuesday, 11 July 2017

ناکارہ لوگوں کے مشاغل

" ناکارہ لوگوں کے مشاغل "
ہماری ذہنی پستی کا یہ عالم ہو گیا ہے کہ ہم بحث و تمحیص کیلیۓ کسی بھی موقع کی تلاش میں رہتے ہیں - حقائق کو نظر انداز کر کے شخصی معاملات کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں -
ایک عظیم انسان کی موت نے ہر دل کو اداس کیا - جب تک اسکی سانس باقی رہی کوئی ایک زبان اسکے مذہبی , ذاتی یا سماجی کردار کی نفی نہیں کر سکی - تعجب اس وقت ہوا جب سوشل میڈیا پہ ایک مذہبی مفکر سمجھے جانے والے حضرت نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مرحوم کسی بھی  طور پر اسلام سے آگاہ ہی نہیں تھے اور نہ ہی مذہبی ارکان کو اہمیت دیتے تھے - انہوں نے اپنے دلائل کے حق میں  بہت  سی  کڑیاں بھی جوڑ دیں -
ایک دوسری بحث یہ شروع ہو گئی ہے کہ مرحوم نے آنکھوں کا عطیہ دے کر غیر اسلامی کام کیا ہے -
سمجھ نہیں آتا کہ ان جیسے موضوعات سے اسلام کی خدمت ہو گی , یا مرحوم کی خدمات کو رد کرنا مقصود ہے -
اسکی  مذہبی فکر یا اعمال کا تعلق الله اور اسکے درمیان ہے - جو اس نے حقوق العباد کیلیۓ کیا , ایسا کام ہے جو صدیوں تک یاد رہے گا - قبولیت کا کیا کم ثبوت ہے , کہ الله نے اس شان سے قبر تک پہنچایا , جو شاہوں کو بھی نصیب نہیں ہوتی -
ناکارہ لوگوں کا فطری طور پر مزاج حاسدانہ بھی ہو جاتا ہے - انہیں اچھا کام بھی متاثر نہیں کرتا -
خدا را مذھب کی خدمت کا پہلا کام یہ ہے کہ کافروں کے نظام کی جڑیں کاٹنے پر پوری توجہ دو - میرا ایمان ہے الله کسی سے نہیں پوچھے گا کہ ایدھی مرحوم کا  مذہبی فکر کیا تھا , اسکی آنکھیں تو مٹی کی امانت تھیں , کسی  زندہ انسان کو کیوں دیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

Sunday, 9 July 2017

جمشید دستی کے نام

" جمشید دستی کے نام "
السلام و علیکم ! اللہ کا نظام ہے کہ ہر فرعون کا تکبر ایک عام طبقے سے اٹھنے والے نے توڑا ہے ۔ اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے یہ کام تمہارے سپرد کر دیا ۔ اور تمہیں دیکھ کر بہت سارے بے بس بھی ہمت کرنے لگیں گے ۔ طاقت کے سامنے سر مت جھکانا ۔ جبر کی رات بہت مختصر ہو کرتی ہے ۔ امن کا دن ضرور طلوع ہوتا ہے ۔
آپ سے کوئی شناسائی نہیں ، مگر جو سنا ہے وہ یہ ہے کہ تم اپنے حلقہ ہائے احباب میں استحصال زدہ لوگوں کی آواز ہو ۔ سلام ہے تمہاری جرات کو ۔
جو قانون صرف اشرافیہ کی حفاظت کرے ، اسکی اطاعت اللہ کے قریب نا پسندیدہ ہے ۔
سنا ہے جبر سے تمہاری پلکیں بھیگنے لگی ہیں ۔ ایسا مت کرو ۔ جابر یہی چاہتا ہے کہ تمہیں نشان عبرت بنا دے ۔ اس حریت کی چنگاری کو آگ بننے سے پہلے بجھا دے ۔ اسے بجھنے مت دینا ۔ خود کو تنہا مت جاننا ، استحصال کا شکار طبقہ بہت بزدل ہوا کرتا ہے ۔ وہ کبھی تمہاری پشت پہ کھڑا نہیں ہو گا ۔ فتح اللہ کیطرف سے تمہارا مقدر ہو گی ۔ استقامت سے کھڑے رہنا ۔ میرا رب دیکھ رہا ہے ۔ وہ ضرور مدد کرے گا .
ازاد ھاشمی ۔

کیا ایسا ممکن ہے

" کیا ایسا ممکن ہے ؟ "
سیاسی تبصرے ، بیرونی اندرونی سازشوں کی بے نقابی ، مسالک کی ترویج کا ثواب ، چٹکلے اور ظرافت ، دنیا میں مسلمانوں کی بے بسی کی تصویریں ، دنیا کے بڑے بڑے لوگوں کے تذکرے ۔  ہم نے جی بھر کے کئے ۔ بہت لکھا ، اپنے اپنے من کا بوجھ اتارنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ نتیجہ کیا نکلا ؟ ۔ صفر ۔ کچھ نہیں بدلا اور کچھ نہیں بدلے گا ۔
کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم اپنی منزل کا تعین کر کے چلیں اور اس پر اپنی استطاعت کے مطابق متحرک ہو جائیں ۔ فیصلہ کر لیں کہ لکھنا ہے تو فلاحی سوچ کے ساتھ لکھیں  گے ۔ تبدیلی لانی ہے تو اپنا حصہ ڈالیں ۔ جسے غلط سمجھیں ، پہلے خود چھوڑ دیں پھر اپنے قریبی لوگوں کو قائل کریں ۔ 
یہی معاشرے کا حسن ہے ، یہی نیکی کی ابتدا ہے ، یہی ثمر آور راستہ ہے ۔
ہمارے ارد گرد کتنے لوگ ہیں ، جو ہمارے ساتھ چلیں گے ، جن کو حقیقت شناسی ہے ، جو اپنے اندر کچھ کرنے کی تڑپ رکھتے ہیں ۔ ان لوگوں کے ساتھ رابطہ رکھیں ۔ تنقید مثبت ہے تو فلاحی ہے ، اور محض تنقید ہے تو تخریبی ہے ۔
ہمارے اصل مسائل میں ، تعلیم میں عدم مساوات ، علاج معالجہ ، افلاس میں پسا ہوا طبقہ ، ایسے معاشرتی مسائل ہیں ، جنہیں ہم آپس میں مل کر حل کر سکتے ہیں ۔
کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم اس پر سوچنا شروع کریں ، اگر ممکن لگے تو چند دوست مل بیٹھیں ، ٹرمپ کی اصلاح کا موضوع چھوڑ کر اس پر بات کرنا شروع کریں ۔ حل ڈھونڈنے لگ پڑیں ۔ ایک ایک لمحہ نیکی ہے ۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم کرنے پر راضی ہو جائیں گے ۔ 
شکریہ
ازاد ھاشمی

چھوئی چھوئی قربانیاں

" چھوٹی چھوٹی قربانیاں  "
الحمدوللہ ! تحریک فلاح انسانیت  کی آواز پر بہت سارے دوست ، اپنی پوری توانائی سے متحرک ہو چکے ہیں ، بہت سارے دوست ہر قربانی کے لئے تیار ہیں ۔ اب الے مرحلے کی تیاری کیلئے چند تجاویز ہیں ۔ کچھ دوست اس خوف میں ہیں کہ یہ بھی چندہ بٹورنے کی ایک کوشش ہے ۔ کچھ دوست یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم انہیں اسلئے متحرک کر رہے ہیں کہ ان سے مالی اعانت مانگیں گے ۔ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ایسا کوئی پلان نہیں ہے اور نہ ہوگا ۔ ہمارا پروگرام چھوٹی چھوٹی قربانیوں کا متقاضی  ہے ۔
١- ایک یہ کہ تحریک کے ساتھ دوست  اپنے قریبی دوستوں  کو متعارف کرائیں  تاکہ یہ پیغام عام ہو جائے اور ہمیں زیادہ سے زیادہ معاونین مل سکیں ۔
٢ . اپنے ارد گرد دیکھیں کہ کتنے لوگ ایسے ہیں ، جو محض ایک کپ چائے یا ایک پیکٹ سگریٹ کی قربانی دے سکتے ہیں ۔ اس چھوٹی سے قربانی سے پورا نظام بدل جائے گا ۔
٣- آپ سے صرف پانچ منٹ ہر روز درکار ہیں ، جس میں آپ اپنے قیمتی مشورے دے سکیں ، کوئی سوال ہو ، تجویز ہو اور کوئی پیش رفت ہو اگاہ کر سکیں ۔
٣- ہر دوست ، اپنے دس ہم خیال دوست ملائے اور انکے ساتھ گروپ کی صورت میں رابطے میں رہے ۔ تحریک کے مرکزی دوستوں کی طرف سے دیے گئے پیغام کو ان تک پہنچائے ۔
واضع رہے ،  جس دن یہ نیٹ ورک ایک لاکھ ہو گیا ، اسی روز پہلے سکول کی بنیاد رکھ دی جائے گی ۔ اللہ کے فضل و کرم کے ساتھ ۔
امید ہے آپ بھر پور تعاون فرمائیں گے ۔
شکریہ
ازاد ھاشمی

غور تو کریں

" غور تو کریں "
ہم میں سے وہ لوگ ، جو سیاسی لیڈروں کی کاسہ لیسی میں اپنی اولاد کی ضروریات سے بے خبر ، ہمہ تن مصروف رہتے ہیں ۔ ان سے پوچھنے کی جسارت کر رہا ہوں ، کہ ان سیاسی لیڈروں کا اصل ٹارگٹ کیا ہوتا ہے ؟ تمہاری خدمت ؟ تمہاری اولاد کے مستقبل کی فکر؟  تمہاری ضروریات کا غم ؟ یا اپنی کرسی  ، اپنی حرص ، اپنی شان کا لالچ ؟
دیہاتوں کے کچے پکے سکولوں میں ٹاٹ پر بیٹھ کر ، ایک تختی ، ایک سلیٹ اور چھٹی جماعت میں اے  بی سی ، ساتویں میں  میری گائے یا میرا استاد پر مضمون لکھنے والے بچوں کے والدین نے کبھی غور کیا ، کہ ایم این اے ، ایم پی اے یا سیاسی چمچوں کے بچے کہاں پڑھتے ہیں اور کیوں ۔ ٹائر پر پنکچر لگاتے لگاتے ، بھٹوں پر اینٹیں تھوپتے تھوپتے بچوں کا کیا قصور کہ اسی طرح جوان ہو جائیں ۔
جب سے پاکستان بنا ، ہم یہی امید لگائے بیٹھے ہیں ، اگلے سال بہار آئے گی ۔ یہ لیڈر اچھا نہیں تھا اگلا لیڈر بہت اچھا ہو گا ۔ اسی امید پر کئی نسلیں پروان چڑھ گئیں ، کئی خواب دیکھنے والے قبروں میں جا سوئے ۔ جس کے پاس دو پیسے ہونگے وہ شہر میں جا بیٹھے گا ۔ جس کی جیب خالی ہو گی وہ شہر میں بیٹھ کر بھی بچوں کا مستقبل اسی طرح برباد کرے گا ۔
تم نے کیوں یقین کر لیا ، کہ تمہاری فکر یہ سیاسی لوگ کریں گے ۔ اپنی فکر آپ کا خیال تمہیں خود کیوں نہیں آتا ۔
اٹھو ! سر جوڑ کر خود راہ نکالو ۔ یہ تبدیلی تمہارے اپنے ہاتھ میں ہے ۔ اپنے جگر گوشوں کو مٹی میں مت ملاو ۔ انکی فلاح تمہارا فرض ہے احسان نہیں ۔ چھوڑو سیاست کو ، چھوڑو امیدوں کو ۔ عمل کی طرف بڑھو ۔
شکریہ
ازاد ھاشمی