" کیا ایسا ممکن ہے ؟ "
سیاسی تبصرے ، بیرونی اندرونی سازشوں کی بے نقابی ، مسالک کی ترویج کا ثواب ، چٹکلے اور ظرافت ، دنیا میں مسلمانوں کی بے بسی کی تصویریں ، دنیا کے بڑے بڑے لوگوں کے تذکرے ۔ ہم نے جی بھر کے کئے ۔ بہت لکھا ، اپنے اپنے من کا بوجھ اتارنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ نتیجہ کیا نکلا ؟ ۔ صفر ۔ کچھ نہیں بدلا اور کچھ نہیں بدلے گا ۔
کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم اپنی منزل کا تعین کر کے چلیں اور اس پر اپنی استطاعت کے مطابق متحرک ہو جائیں ۔ فیصلہ کر لیں کہ لکھنا ہے تو فلاحی سوچ کے ساتھ لکھیں گے ۔ تبدیلی لانی ہے تو اپنا حصہ ڈالیں ۔ جسے غلط سمجھیں ، پہلے خود چھوڑ دیں پھر اپنے قریبی لوگوں کو قائل کریں ۔
یہی معاشرے کا حسن ہے ، یہی نیکی کی ابتدا ہے ، یہی ثمر آور راستہ ہے ۔
ہمارے ارد گرد کتنے لوگ ہیں ، جو ہمارے ساتھ چلیں گے ، جن کو حقیقت شناسی ہے ، جو اپنے اندر کچھ کرنے کی تڑپ رکھتے ہیں ۔ ان لوگوں کے ساتھ رابطہ رکھیں ۔ تنقید مثبت ہے تو فلاحی ہے ، اور محض تنقید ہے تو تخریبی ہے ۔
ہمارے اصل مسائل میں ، تعلیم میں عدم مساوات ، علاج معالجہ ، افلاس میں پسا ہوا طبقہ ، ایسے معاشرتی مسائل ہیں ، جنہیں ہم آپس میں مل کر حل کر سکتے ہیں ۔
کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم اس پر سوچنا شروع کریں ، اگر ممکن لگے تو چند دوست مل بیٹھیں ، ٹرمپ کی اصلاح کا موضوع چھوڑ کر اس پر بات کرنا شروع کریں ۔ حل ڈھونڈنے لگ پڑیں ۔ ایک ایک لمحہ نیکی ہے ۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم کرنے پر راضی ہو جائیں گے ۔
شکریہ
ازاد ھاشمی
Sunday, 9 July 2017
کیا ایسا ممکن ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment