" غور تو کریں "
ہم میں سے وہ لوگ ، جو سیاسی لیڈروں کی کاسہ لیسی میں اپنی اولاد کی ضروریات سے بے خبر ، ہمہ تن مصروف رہتے ہیں ۔ ان سے پوچھنے کی جسارت کر رہا ہوں ، کہ ان سیاسی لیڈروں کا اصل ٹارگٹ کیا ہوتا ہے ؟ تمہاری خدمت ؟ تمہاری اولاد کے مستقبل کی فکر؟ تمہاری ضروریات کا غم ؟ یا اپنی کرسی ، اپنی حرص ، اپنی شان کا لالچ ؟
دیہاتوں کے کچے پکے سکولوں میں ٹاٹ پر بیٹھ کر ، ایک تختی ، ایک سلیٹ اور چھٹی جماعت میں اے بی سی ، ساتویں میں میری گائے یا میرا استاد پر مضمون لکھنے والے بچوں کے والدین نے کبھی غور کیا ، کہ ایم این اے ، ایم پی اے یا سیاسی چمچوں کے بچے کہاں پڑھتے ہیں اور کیوں ۔ ٹائر پر پنکچر لگاتے لگاتے ، بھٹوں پر اینٹیں تھوپتے تھوپتے بچوں کا کیا قصور کہ اسی طرح جوان ہو جائیں ۔
جب سے پاکستان بنا ، ہم یہی امید لگائے بیٹھے ہیں ، اگلے سال بہار آئے گی ۔ یہ لیڈر اچھا نہیں تھا اگلا لیڈر بہت اچھا ہو گا ۔ اسی امید پر کئی نسلیں پروان چڑھ گئیں ، کئی خواب دیکھنے والے قبروں میں جا سوئے ۔ جس کے پاس دو پیسے ہونگے وہ شہر میں جا بیٹھے گا ۔ جس کی جیب خالی ہو گی وہ شہر میں بیٹھ کر بھی بچوں کا مستقبل اسی طرح برباد کرے گا ۔
تم نے کیوں یقین کر لیا ، کہ تمہاری فکر یہ سیاسی لوگ کریں گے ۔ اپنی فکر آپ کا خیال تمہیں خود کیوں نہیں آتا ۔
اٹھو ! سر جوڑ کر خود راہ نکالو ۔ یہ تبدیلی تمہارے اپنے ہاتھ میں ہے ۔ اپنے جگر گوشوں کو مٹی میں مت ملاو ۔ انکی فلاح تمہارا فرض ہے احسان نہیں ۔ چھوڑو سیاست کو ، چھوڑو امیدوں کو ۔ عمل کی طرف بڑھو ۔
شکریہ
ازاد ھاشمی
Sunday, 9 July 2017
غور تو کریں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment