Thursday, 26 September 2019

ابرہہہ کے ہاتھی

" ابرہہہ اور ہاتھی "
جغرافیائی اعتبار سے بحراحمر کی دائیں طرف یمن ہے ، جو نسلی اعتبار سے عرب ہیں اور اس کے سامنے ہی بائیں طرف  "حبشہ "  جس کو اب " ایتھوپیا " کہا جاتا ہے  اور یہ افریقی ہیں  ۔ یمن والے بنیادی طور پر دیگر عربوں کیطرح  بت پرست اور دیگر مشرکانہ عقائد کے مقلد تھے ۔ حبشہ نے یمن پر چڑھائی کردی اور اسے اپنا زیر نگیں کر لیا ، حبشہ کے لوگ مذہباً عیسائی تھے اور اس عرب ملک پر قابض ہوگئے ، حبشہ کیلئے یہ بہت بڑی فتح تھی کہ وہ ایک عرب ملک پر قابض ہوگئے ، اور اسے عیسائیت کی کامیابی قرار دیا گیا ۔ عیسائیوں کو اس غلبہ نے عیسائت کی ترویج کی راہ ہموار کردی ۔  حبشہ کے بادشاہ نے  ابرہہ  کو یمن کا گورنر بنا  دیا ، چونکہ وہ ایک پُر جوش عیسائی تھا اور چاہتا تھا کہ اس پورے خطہ میں عیسائیت کو بنیادی مذہب کی حیثیت حاصل ہوجائے ۔  چنانچہ اس نے یمن کی راجدھانی صَنْعَاء میں قُلَّیْس نامی ایک شاہکار عمارت بنائی ، جو اپنی شان و شوکت ، سجاوٹ اور خوبصورتی کے اعتبار سے ایک مثالی عمارت تھی ،  یہ عیسائیوں کا عبادت خانہ یعنی چرچ تھا ۔
ابرہہ  کا احساس تھا کہ عیسائیت کی اشاعت میں سب سے بڑی رکاوٹ مکہ میں بنی ہوئی عبادت گاہ " کعبہ " ہے ، عربوں کو اس میں ایسی کشش اور اس عمارت سے ایسا جذباتی لگاؤ ہے کہ وہ اس کے مقابلہ میں کسی اورعبادت گاہ کو خاطر میں نہیں لاتے ؛ اس لئے عرب قبائل سے کہاجائے کہ وہ مکہ میں کعبہ کا حج کرنے کی بجائے " صنعاء " میں " قُلَّیْس " کا حج کریں ، عربوں کو جب یہ بات پہنچی تو انھیں بڑا غصہ آیا ، اتفاق سے اس وقت بعض عرب صنعاء میں موجود تھے ، انھوں نے اپنے جذبات کے اظہار کے لئے اسی عمارت میں قضاء حاجت کردی ،  تفتیش کی گئی تو معلوم ہواکہ یہ حرکت ان ہی لوگوں میں سے کسی نے کی ہے ، جو حج کے لئے کعبہ کو جایا کرتے ہیں ۔ ابرہہ کا غصہ اس وجہ سے اور بڑھ گیا ، قبیلہ بنوکنانہ کا آدمی اس کے پاس موجود تھا ، ابرہہ نے اس کو بھیجا کہ وہ اپنے قبیلہ کے لوگوں کو کعبہ کے بجائے قلیس کے حج کی دعوت دے ، جب وہ یہ پیغام لے کر پہنچا تو قبیلہ کے لوگوں نے اسے قتل کر ڈالا ، اب ابرہہ کا غصہ اپنی انتہا کو پہنچ گیا اور اس نے عزم مصمم کر لیا کہ ہم ہر قیمت پر کعبہ کو منہدم کرکے رہے گا ۔  ابرہہ نے  ساٹھ ہزار افراد پر مشتمل فوج  تیار کی ، اس میں ایک دستہ  ہاتھیوں کا بھی تھا ۔  اسوقت مکہ کی آبادی چند ہزار افراد پر مشتمل تھی ، اتنی بڑی یلغار کی قطعی ضرورت نہیں تھی ۔
بد مست ہاتھیوں اور بیشمار افراد پر مشتمل  لشکر کے راستے میں " کعبہ " کو گرانے کیلئے کوئی ایسی رکاوٹ نہیں ، پھر بھی وہ کوئی  امکان باقی نہیں رہنے دینا چاہتا تھا جو اسکے ارادوں کی تکمیل میں رکاوٹ بن جائے ۔
کعبہ کے متولی " عبدالمطلب " تھے ، انہوں نے  مکہ کے روساء کو مکہ سے کسی دوسری جگہ محفوظ مقام پر بھیج دیا اور  خود " کعبہ " میں رک گئے ۔ ابرہہہ کے لشکر نے عبدالمطلب کے اونٹ پکڑ لئے ، جنہیں لینے کیلئے عبدالمطلب ابرہہہ کے پاس گئے ۔ یمن کا یہ سرپھرا عیسائی تکبر میں بیٹھا ، عبدالمطلب سے مضحکہ خیز انداز میں بولا ۔
" آپ کو کعبہ کی فکر نہیں ، اپنے اونٹوں کی فکر ہے ؟ "
کعبہ کی چابیاں رکھنے والا یہ بہادر  سردارکہنے لگا ۔
" اونٹ میرے ہیں ، مجھے انکی حفاظت کی فکر ہے , کعبہ جس کا ہے وہ اسکی حفاظت بھی کرے گا "
پھر ابابیل کا لشکر ، کنکریوں کی بارش ، اور ہاتھیوں کی بے چینی میں ابرہہہ کا لشکر " کھائے ہوئے بھوسے " کیطرح بکھرا پڑا تھا ۔
آج بھی کچھ ابرہہہ " کعبے " پر یلغار کی غرض سے اکٹھے ہیں ۔ آج بھی زعم باقی ہے کہ عیسائیت کو غلبہ دلا کر رہیں گے ۔ آج بھی ہاتھی ہیں ، اسوقت گوشت پوست کے تھے ، آج فولاد کے ہیں ۔ ابرہہہ جس دور کا بھی ہو ، کھائے ہوئے بھوسے کیطرح نابود ہوتا ہے ۔ کمی کہاں ہے ؟ کہ عبدالمطلب کا ایمان اور یقین نظر نہیں آ رہا ، کہ اللہ پھر سے ابابیل بھیج دے ۔ ایمان اور یقین بننے کی دیر ہے ، اللہ کی مدد ضرور آئے گی ۔
آزاد ھاشمی
٢٦ ستمبر ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment