" یزید کی دادی (٣) "
تاریخ سے واقفین فتح مکہ پر ہندہ کی بیعت کی تفصیل یوں لکھتے ہیں ۔
" جب مکہ فتح ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لینے کے لیے بیٹھے، تو مستورات میں ہند بھی آئیں، عرب کے رواج کے مطابق شریف عورتیں نقاب پہنتی تھیں، ہند بھی نقاب پہن کر آئیں جس سے اس وقت یہ غرض بھی تھی کہ کوئئ انکو پہچاننے نہ پائے ، بیعت کے وقت انہوں نے نہایت دلیری سے یہ گفتگو کی ۔
ہندہ : یا رسول اللہ! آپ ہم سے کن باتوں کا اقرار لیتے ہیں۔
رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) : خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔
ہندہ: یہ اقرار آپ نے مردوں سے تو نہیں لیا، بہرحال ہم کو منظور ہے۔
رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) : چوری نہ کرنا۔
ہندہ : میں اپنے شوہر کے مال میں سے کبھی کچھ لے لیا کرتی ہوں معلوم نہیں یہ بھی جائز ہے یا نہیں؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) : اولاد کو قتل نہ کرنا۔
ہندہ : ربینا ہم صغاراوقتلھم کبارافانت وھو اعلم، ہم نے تو اپنے بچوں کو پالا تھا، بڑے ہوئے تو جنگ بدر میں آپ نے انکو مار ڈالا، اب آپ اور وہ باہم سمجھ لیں-"
اس مکالمہ کے لب و لہجہ اور الفاظ کی ادائیگی پر کوئی ذی شعور نہیں کہہ سکتا کہ ہندہ کے دل میں رسالت کا وہ احترام موجود تھا جو ایمان کا لازمی جزو ہے ۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ بیعت کا یہ موزوں طریقہ تھا ۔ موصوفہ ابھی بھی اس زعم میں تھیں کہ وہ رسولؐ پاک کے ہم پلہ سردار کی بیوی ہونے کا شرف رکھتی ہیں ۔
اس لہجے سے تکبر کا اظہار واضع تھا اور نظر آ رہا تھا کہ اسلام کی قبولیت نہایت مجبوری کی حالت میں ہے ۔
یہ قیاس کرنا بھی شاید غلط نہ ہو کہ موصوفہ چاہتی تھیں کہ اللہ کے نبیؐ کو غصہ آئے اور فساد کا نیا راستہ کھل جائے ۔ جبکہ دوسری تمام خواتین خاموش رہیں اور کوئی سوال نہیں کیا ۔
مگر اس بے باک لہجے اور اپنے لوگوں کے قتال کی شکایت پر سخت ترین الفاظ کہنے پر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہندہ سے درگزر فرمایا۔ ہندہ کے پاس اس اقرار کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا کہ اقرار کر لیں کہ
" آپ سچے پیغمبر ہیں "
اسکے ساتھ موصوفہ اپنے بغض کا اقرار بھی کیا ۔ فرمانے لگیں ۔
" یا رسول اللہ ! اس سے پہلے میرے نزدیک آپ کے خیمے سے زیادہ ناپسندیدہ خیمہ نہیں تھا اور اب آپ سے زیادہ محبوب کوئی نہیں "
تہذیب کی نظر سے دیکھا جائے تو ایک خاتون کی اسقدر بےباکی ایک عام اجنبی مرد سامنے بھی ناپسندیدہ عمل ہے ۔
چہ جائیکہ کوئی اس لہجے میں اللہ حبیبؐ کے سامنے گفتگو کرے ۔
۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
٢١ ستمبر ٢٠١٩
Saturday, 21 September 2019
یزید کی دادی (٣) "
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment