علیؑ کی بیٹی نے فرمایا (١) "
کربلا کے بعد پردہ دار بیبیوں کی اسیری کا لمبا سفر ، جس میں ہاتھ رسیوں سے جکڑے ہوئے تھے ۔ بھوک اور پیاس کی مشقت کے ساتھ ساتھ ننگے سر بازاروں میں گھمایا جانا ، ساتھ ساتھ نیزوں پر شہداء کے سروں کا تماشا دکھانا ، تاریخ کی بد ترین مثال تھی ۔ جو دنیا نے دیکھی ۔ کچھ ایسی ہی کیفیت معصوم بچوں کی بھی تھی جو نہ لڑنے کے قابل تھے اور نہ کسی مزاحمت کے لائق ۔ ایک بدبخت حکمران کے سامنے یہ قیدی اس رسولؐ کی اولاد اور اہل خانہ تھے , جس نے فتح مکہ کے وقت ان کے اجداد کو معاف کیا اور آزاد کیا تھا ۔ جب قافلہ کے سالار کے سر کی توہین کی غرض سے شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ تخت پر بیٹھے متکبر بادشاہ نے ہونٹوں پر چھڑی ماری۔ ان مبارک ہونٹوں پر جن کو بیشمار بار اللہ کے حبیبؐ نے بوسے دئیے تھے ۔ یہ سالار علیؑ کا بیٹا تھا ۔ہر بہن کا دل پھٹ جاتا ہے ، جب کوئی اسکے بھائی کی توہین کرے ۔ علیؑ کی بیٹی ، اسداللہ الغالب کی بیٹی تھیں ۔ وہ بیٹی جسکی رگوں میں دوڑنے والے خون کا خمیر ہی شجاعت سے ہو ۔ اسے کون ہے جو خوفزدہ کر سکتا ہے ۔ اس عظیم بیٹی کو " زینبؑ " کہا جاتا ہے ۔ اس وقت بی بی زینبؑ نے یزید کو مخاطب کیا ۔ اور ایک خطبہ دیا ۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو قیامت تک یزید کو جرم سے بری کرنے کی ہر کوشش کا رد ہیں ۔ اللہ کی تمحید و تقدیس ، رسولؐ اور اہلبیت پر درود کے بعد فرمایا
" بالآخر ان لوگوں کا انجام برا ہے جنہوں نے اپنے دامن حیات کو برائیوں کی سیاہی سے داغدار کر کے اپنے خدا کی آیات کی تکذیب کی اور آیات پروردگار کا مذاق اڑایا"
باب العلم کی عظیم بیٹی کے یہ الفاظ کھلی وضاحت ہے کہ اقتدار کے حریص ان لوگوں نے آیات اور حکم ربی کا تمسخر کیا ۔ پھر یزید کا نام لیکر مخاطب کیا.
"اے یزید! کیا تو سمجھتا ہے کہ تو نے ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارے تنگ کر دیے ہیں اور رسولؐ کی آل کو رسیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر در بدر پھرانے سے تو خدا کی بارگاہ میں سرفراز ہوا اور ہم رسوا ہوئے ہیں؟ کیا تیرے خیال میں ہم مظلوم ہو کر ذلیل ہو گئے اور تو ظالم بن کر سر بلند ہوا ہے؟ کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم پر ظلم کر کے خدا کی بارگاہ میں تجھے شان و مقام حاصل ہو گیا ہے؟۔ آج تو اپنی ظاہری فتح کی خوشی میں سرمست ہے، مسرت و شادمانی سے سرشار ہو کر اپنے غالب ہونے پر اترا رہا ہے "
پاک بی بی کے الفاظ اس تاریخی حقیقت کوبے نقاب کرتے ہیں کہ یزید نہایت خوش و خرم تھا ۔ بغض علیؑ میں غلطان محقق یہ باور کرانے کی جتنی بھی کوشش کریں کہ یزید کربلا میں ہونے والے واقعہ سے خوش نہیں تھا ، یہ کہنا سارسر غلط ہے کہ یہ سب کیا دھرا ابن زیاد کا تھا ۔ بی بی کے یہ جملے یزید کے جرم پر مہر ہیں جسے قیامت تک اسکا کوئی بھی فعل دھو نہیں سکتا ۔ جو لوگ یزید کو کسی جنگ میں شرکت میں شمولیت پر " جنتی " ثابت کرتے ہیں ۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ اہل بیت کا مجرم کبھی سرخروئی نہیں پا سکتا ۔ اور جس کو علیؑ کی بیٹی نے مجرم قرار دے دیا ہو وہ مجرم ہی ہے ۔ بھلے کتنی من گھڑت تاویلات ہی کیوں نہ بنا لی جائیں ۔۔۔
( جاری ہے )
آزاد ھاشمی
١۵ ستمبر ٢٠١٩
Sunday, 15 September 2019
علیؑ کی بیٹی نے فرمایا (١) "
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment