Wednesday, 11 September 2019

اولاد والو ! "

" اولاد والو ! "
کربلا کی ریت بہت گرم ہے ، سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے ۔ ایک طرف تیر و تفنگ سے لیس لشکر ہے ۔ دوسری طرف پردہ دار خواتین ہیں ۔ چند جوان ہیں ، چند عمر رسیدہ ، چند نو عمر ، اور معصوم بچے بھی ہیں اور بچیاں بھی ۔ یہ دوسرا قافلہ نبیؐ کی امت کے بلانے پر مسافر تھا ۔ ان کا سالار امام وقت ہے ۔ اسے امت کی امامت کی فکر تھی ، فکر مند ہے کہ امت پر گمراہی مسلط ہونے جا رہی ہے ۔ یہ مختصر قافلہ فرات کے بہت قریب خیمہ زن ہے ۔ مگر آج تیسرا روز ہے ، پانی کی ایک بوند نصیب نہیں ہوئی ۔ زبانیں خشک ہوکر پھٹنے کے قریب ہیں ۔
بڑا لشکر ظاہر کر رہا ہے کہ کسی بہت بڑے جری لشکر سے مقابلہ ہونے والا ہے جبکہ سامنے  چند شجاع ہیں جو صرف ایمان سے لیس ہیں ۔ انکی بہادری کا اقرار دشمن کئے بیٹھا ہے اور دشمن جانتا ہے کہ اگر انہیں پانی مل گیا تو یہ لشکر غفیر بھی ناکافی ہے ۔ دشمن جنگلی کتوں کیطرح منتظر ہے کہ یہ شیر مضمحل ہوں اور وہ حملہ کریں ۔
سالار قافلہ نے تو چراغ بجھا کر بھی اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ جو جانا چاہے ، چلا جائے ۔  مگر جن کے خمیر میں حب اہل بیت ہو وہ امام کو تنہا کیسے چھوڑتے ۔ جان دینے کا اس سے اچھا وقت کونسا ہوگا ۔ جنت کو چند ساعتوں کے فاصلے پر دیکھ کر کون پیچھے ہٹے گا ۔ میرا تخاطب وہ ہیں ، جن کے اپنے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔ جن کے سامنے اپنے نو خیز جوان ہیں ۔ جن کے ساتھ کڑیل جوان بھائی اور بیٹے ہیں ۔ تھوڑی دیر کیلئے امام کے ساتھ کھڑے ہوکر دیکھیں کہ امام نے یہ سب کیسے قربان کئے ۔ باپ بیٹے کا درد کیسے بھی برداشت کر لیتا ہے ۔ مگر بیٹی کا درد اسکا سینہ چیر کر رکھ دیتا ہے ۔ امام کو شہید ہونے والوں کا غم تو کربلا کے چند لمحوں میں بوڑھا کر گیا تھا ۔ جو اصل غم تھا  ، جس کیلئے امام خیموں سے کچھ فاصلے پر بیٹھ کر کسی گہری سوچ میں کبھی آسمان کی طرف نظر اٹھاتے کبھی خیموں کیطرف دیکھنے لگتے ۔ یہ درد بہت تکلیف دہ تھا ۔ ابھی چند لمحوں کے  بعد امام کے بچوں اور پاک بیبیوں کے ساتھ کیا ہونے والا تھا ۔ امامؑ کا سینہ پھٹ رہا تھا ۔
اولاد والو ! تصور تو کرو کہ تین سال کی وہ معصوم بچی جو امامؑ کے سینے پہ سویا کرتی تھی ۔ اسکے ننھے گالوں پر بہادر اور طاقتور سالاروں کے طمانچے کتنے اذیت ناک ہونگے ۔  نہ زنجیروں میں جکڑا بیمار بھائی کچھ کر پائے گا اور نہ گردن کے پیچھے بندھے ہاتھوں والی بیبیاں کچھ کر سکیں گی ۔ سوائے اسکے کہ جب معصوم بلبلائیں گے تو دو آنسو بہا کر خاموش ہو جائیں گی ۔
آج تک بڑے بڑے لکھاری ، یہ وجہ تلاش نہیں کر سکے کہ آخر اس لٹے پھٹے قافلے سے فاسقین کس خوف میں مبتلا تھے کہ انہیں رسیوں اور زنجیروں سے اس بر دردی سے باندھ رکھا تھا ۔ انکے سروں پر تو دوپٹے تک نہیں رہنے دئیے گئے تھے ، پھر اتنی اذیت کیوں دی؟ جب سوچتا ہوں کہ کوفے اور شام کے لوگ جب معصوم بچوں کو اور اپنے ہی بالوں سے منہ چھپائے بیبیوں کو دیکھ رہے ہونگے تو ان میں سے کوئی اولاد والانہیں تھا کہ اسکا دل پسیج جاتا ؟ کیا یہ مسلمانوں کی بستیاں تھیں؟ اور کیا انکو مسلمان کہنے اور سمجھنے والے مسلمان ہیں ؟
آزاد ھاشمی
٩ ستمبر ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment