Sunday, 8 September 2019

معاویہ کا دور اقتدار ( ٣) "

" معاویہ کا دور اقتدار ( ٣) "
معاویہ نے جن شرائط پر امام حسنؑ سے معاہدہ کیا ، ان شرائط کو جان لینے کے بعد اس ابہام کا ازالہ ہو جاتا ہے کہ یہ صلح کی پیش کش امام حسنؑ کیطرف سے نہیں تھی ۔ اور اسے کسی بھی طور بیعت نہیں کہا جا سکتا ۔ کیونکہ بیعت مشروط نہیں ہوا کرتی ، معاہدے مشروط ہوا کرتے ہیں ۔ یہ ابہام بھی دور ہو جاتا ہے کہ معاویہ کو اقتدار کا کس قدر خبط تھا کہ مشکل سے مشکل شرط پر آمادہ رہا ۔
شرائط ملاحظہ فرمائیں ۔
١۔  امام علیؑ پر سب و شتم نہیں ہوگی۔
٢۔ اہل بیت کے چاہنے والوں کی جان ومال ہر حال میں محفوظ رہیں گے اور ان کو کسی قسم کی کوئی آزار و اذیت نہیں پہنچائی جائے
گی ۔
٣۔ معاویہ کتاب خدا، سنت پیغمبرؐ اور خلفای راشدین کی سیر پر عمل پیرا ہوگا۔
۴۔ معاویہ کسی کو اپنا ولیعہد اور جانشین مقرر نہیں کرے گا بلکہ خلیفہ کا انتخاب مسلمانوں کی شوریٰ پر چھوڑے گا۔
۵۔ تمام لوگ جہاں کہیں بھی ہوں ،  امن و امان میں ہونگے۔
٦۔ شیعیان علی اور آپ کے پیروکا کی جان، مال، اور عزت و ناموس محفوظ ہوگی۔
٧۔ معاویہ امام حسنؑ، امام حسینؑ اور خاندان اہل بیتؑ کے کسی دوسرے فرد کے خلاف کوئی سازش نہیں کرے گا اور انہیں کسی قسم کی کوئی آزار و اذییت نہیں پہنچائے گا۔
جب امام حسنؑ کیطرف سے عبداللہ بن نوفل یہ شرائط لیکر معاویہ کیطرف گیا
تو اس نے امام کے بیان کردہ شرائط کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اپنی طرف سے بھی کچھ شرائط کو بیان کر ڈالا ۔  جو یوں تھیں ۔
١۔ کوفہ کے خزانے میں موجود 50 لاکھ درہم اور دارابگرد فارس کی سالانہ آمدنی امام حسنؑ سے مختص ہوگی
٢۔  یہ کہ خلافت معاویہ کے بعد امام حسنؑ کا حق ہوگا۔
  اور ایک سفید کاغذ پر دستخط کر کے عبداللہ بن نوفل کے حوالے کر دیا تاکہ امام جو بھی چاہے شرط لکھ لیں ۔
امام حسنؑ کیطرف سے تمام شرائط اس بات کی گواہی ہیں کہ آپؑ امن کے خواہاں تھے اور معاویہ کو امن کیلئے اور اسلامی قواعد ضوابط کیلئے پابند کرنا چاہتے تھے ۔  انہیں اقتدار کی قطعی خواہش یا آرزو نہیں تھی ۔  دوسری طرف معاویہ کی از خود دی گئی شرائط سیاسی تاجرانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں ۔
تاریخ حوالہ جات کے مطابق  معاویہ نے ان میں سے کتنی شرائط کو ملحوظ رکھا اور کتنی میں عہد شکنی کی ،  اگلی قسط میں لکھنے کی کوشش کی جائے گی ۔
آزاد ھاشمی
٧ ستمبر ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment