Tuesday, 10 September 2019

کربلا سے شام تک

" کربلا سے شام تک "
علیؑ سے دشمنی ، اباو اجداد کا انتقام ، اقتدار کا نشہ ، دادی کا کینہ یہ وہ عناصر تھے جس نے رسولؐ کی آل کو کربلا میں ، نہ صرف شہید کیا بلکہ معصوموں کے جسموں کو گھوڑوں کے قدموں تلے پامال کرایا ۔  ایک ایک سر کاٹا ، نیزوں پر چڑھایا اور پھر سے جسموں پر گھوڑے دوڑا دئیے ۔ کون جانے لاشے ٹھوکریں کھا کر کہاں کہاں بکھرے ۔ بدن کے کپڑے کتنے چیتھڑوں میں بٹے ۔ کتنے چہروں پر گھوڑوں کی نعلوں نے زخم کئے ۔ کون جانے راقب دوش رسولؐ کے ان ہونٹوں کا کیا ہوا جن کو نبیؐ بوسے دے کر فرحت محسوس کرتے تھے ۔
کونسی آنکھ ہے جو اس سانحہ کی مطابقت سے رو سکتی ہے ۔ رونے والے جتنا بھی جتن کر لیں ، علی اصغرؑ کے غم ہی میں آنسو ختم ہو جاتے ہیں اور رونے کیلئے تو کربلا  کے پورے میدان میں بکھرے لاشے باقی رہ جاتے ہیں ہیں ۔ کس آنکھ کے اتنے نصیب کہ ایک ایک شہید کیلئے رو پائے ۔ امامؑ کے بیمار سجادؑ  سے پوچھو کہ ساری زندگی رو کر بھی بابا کیلئے پوری طرح رونے کی حسرت کے ساتھ ہی چلا گیا ۔
رونے والا کربلا سے رونے لگے ، بیبیوں کی چادروں پر روئے ، سکینہ کی بے بسی پہ روئے ، زینبؑ کے امتحان پہ روئے ، سجادؑ کے گلے میں پڑے طوق ،  پاوں میں الجھتی بیڑیوں یا ہاتھوں میں پڑی زنجیروں پہ روئے ۔ کس کس پہ روئے گا ، کتنا روئے گا ، کہاں تک روئے گا ۔ کربلا سے کوفہ ایک لمبی مسافت ہے ، کئی منزلیں ہیں ۔ اتنا رونے کیلئے تو آنسووں کا سمندر بھی کم پڑے گا ۔ ابھی تو ملعون کے دربار کی حاضری باقی ہے ، جہاں بد مست تخت پہ رعونت سے بیٹھا ہوگا اور رسیوں سے بندھی ، ننگے سروں سے پردہ دار بیبیوں نے پیش ہونا ہے ۔ ابھی تو ان لمحوں کو فلک دیکھے گا اور اسے بھی رونا ہوگا ۔ وہی فلک جس نے ان بیبیوں کو کبھی صحن میں ننگے سر نہیں دیکھا تھا ،بھرے دربار میں دیکھ رہا ہوگا ۔ آج تو شیطان بھی سوچے گا کہ جس ظلم کا اس نے خدشہ ظاہر کیا تھا ، یہاں تو وہ ظلم بہت پیچھے رہ گیا ہے ۔ اب تو نہ جسموں میں پانی کی بوند باقی ہے اور نہ کوئی آنسو بچا ہے کہ زینبؑ پھوٹ پھوٹ کر رو لیتی ۔ جو تھوڑے آنسو بچے ہیں ، انہیں تو تقسیم کرکے رونا پڑے گا ۔ ابھی تو کوفہ سے آگے بھی سفر باقی ہے ۔ ابھی تو شام جانا ہے ۔ ابھی تو رسیوں کے بندھن مزید کسے جانے ہیں ۔ ابھی تو ایک ملعون شام کے دربار میں آل نبیؐ کا نظارہ کرنے کے انتظار میں ہے ۔ ابھی تو وہ حسینؑ کے لبوں پر چھڑی مارے گا اور زینبؑ کا سینہ درد سے پھٹے گا ۔ شام کے بازاروں میں بھی تو ننگے سر والی پردہ داروں کا تماشا باقی ہے ۔ ابھی تو چند بچے کچھے معصوم بچوں پر چھتوں سے پتھر برسنے ہیں ۔ اس پر بھی تو رونا آئے گا ۔ اب قافلے والے بہت احتیاط سے روئیں گے ۔ شاید اسی لئے زمانے والے کہتے ہیں کہ بی بی زینبؑ نے گریہ نہیں کیا ۔ چہرے پہ پڑے بالوں میں آنسو کون دیکھ سکتا ۔ پردہ شان تھی ، سو جہاں تک ہو سکا ، بی بی نے نبھایا ۔ اب خون بچا تھا ، باقی ساری زندگی۔خون ہی رونا تھا ۔
شام سے مدینہ واپسی پہ سجادؑ پریشان تھا کہ اب مدینہ میں جا کے کیا کہے گا کہ
" نانا ! تیری امت نے تیرا کلمہ پڑھنے والوں نے ، جنہیں فتح مکہ میں امان بخشی تھی ، جو تیری صحبت میں بیٹھا کرتے تھے ۔ انہوں ہم سے سب چھین لیا ۔ تیرا گھر اجاڑ دیا "
شاید نانا کے در پہ بیٹھ کے پھر سے بہت رونا آ جائے ۔ یہ سوچ کر لٹے پھٹے قافلے نے باقی آنسو روک لئے ہونگے ۔ ابھی تو زینبؑ کو اپنی ماں کو بتانا ہے کہ
" اماں جان ! یہ میرے سر کی چادر ، پوری دنیا کے سامنے ننگے سر گھمانے کے بعد ملی ہے "
یہ سن کر ابھی تو خاتون جنت کو بھی رونا ہے ۔ ابھی تو فلک کو بھی رونا ہے ، ابھی تو خلق کو بھی رونا ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٠ ستمبر ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment