Wednesday, 11 September 2019

معاویہ کا دور اقتدار (4) "

معاویہ کا دور اقتدار (4) "
امام حسنؑ سے جن شرائط پر معاہدہ ہوا تھا ، ان میں ایک یہ بھی تھی کہ معاویہ اپنے طرز حکومت کو اسلامی طرز پر اسی طرح بحال رکھے گا ، جیسے قرآن کا حکم ہے ۔ نبی پاکؐ کے اسوہ اور خلفاء راشدین کے طریقوں کی پیروی کی جائے گی ۔ مگر جیسے ہی معاہدہ ہوا ، خلافت کا سارا طریق سلطنت اور بادشاہت کی طرف مڑ گیا ۔
معاہدے کی اساس یہ تھی کہ مسلمانوں کو تقسیم ہونے سے بچا لیا جائے اور کردار کشی کی کوئی مہم شروع نہ کی جائے ۔ صلح کے اس معاہدے کے فوری بعد  معاویہ نے مسجد کوفہ میں تقریر کی اور کہا: 
"ألا إني كنتُ شرطت شروطا أردت بها الأُلفة ووضع الحرب، ألا وإنها تحت قدمي"۔
 ترجمہ: جان لو کہ میں نے کچھ شرطیں رکھیں( اور صلح کی) جس سے میرا مقصد الفت اور جنگ بندی تھی؛ جان لو کہ میں صلح کے معاہدے کو پاؤں تلے روندتا ہوں۔ اس موقع پر اس نے امیرالمؤمنین کی توہین کی اور پھر امام حسن کی شان میں گستاخی کی جس پر امام حسن مجتبیؑ نے کھڑے ہوکر نہایت فصیح و بلیغ اور طویل خطبہ دیا۔
صلح نامے  کا ایک نکتہ امیر المؤمنینؑ پر سبّ و لعن کا سد باب کرنے سے متعلق  بھی تھا۔ جبکہ معاویہ سمجھتا تھا کہ گویا اس کی حکومت کا استحکام ہی امام علیؑ پر سبّ اور دشنام طرازی اور آپؑ کے خلاف انتقامی کاروائیوں پر منحصر ہے۔  چنانچہ اس کے کارگزار اور والی  اس قدر اس موضوع پر اصرار کرتے تھے کہ امیر المؤمنینؑ پر سبّ و لعن کو نماز جمعہ کا جزء سمجھتے تھے؛ اور ان میں سے جو کوئی ایسا کرنے سے اجتناب کرتا اس کو سرکاری مناصب سے ہٹا دیا جاتا تھا۔
معاویہ کی حمایت میں یہ کہنے والوں کے پاس کیا جواز باقی ہے جو پوری تعدی سے کہتے ہیں کہ معاویہ کے نام کے ساتھ اسلامی القاب نہ لکھنے والا اپنا ایمان کھو بیٹھتا ہے ۔  یہ گالم گلوچ اور وہ بھی علیؑ جیسی ہستی کو دینے والے یا دلانے والے کا ایمان باقی رہ جائے گا ؟
معاویہ نے پانچویں شق کی بھی خلاف ورزی کی اور اپنے کارگزاروں اور والیوں کو ایک ہدایت نامہ لکھا کہ "جان لو کہ اگر ثابت ہوجائے کہ کوئی علیؑ سے محبت کرتا ہے اس کا نام تنخواہ اور وظیفہ لینے والوں کی فہرست سے حذف کرو"، اور پھر دوسرا ہدایت نامہ لکھا اور حکم دیا: "جو بھی اس گروہ سے محبت کا ملزم ٹہرے اس کو قیدخانوں میں ڈال دو اور اس کا گھر منہدم کرو"۔
علیؑ کے ساتھ انتقام کی یہ آگ کیوں تھی؟ اسکے اسباب کیا تھے ؟ محققین اور ناقدین سے ان سوالات کا جواب تلاش کریں ۔
آزاد ھاشمی
٩ ستمبر ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment