Monday, 16 September 2019

علیؑ کی بیٹی نے فرمایا (٢) "

علیؑ کی بیٹی نے فرمایا (٢) "
عظمت اور شجاعت کا جو مظاہرہ علیؑ کی لخت جگر نے یزید کے سب درباریوں کے سامنے شروع کیا ۔  اسے جاری رکھتے ہوئے فرمایا ۔
" اے یزید !تو خلافت کے ہمارے مسلمہ حقوق کو غصب کر کے خوشی و سرور کا جشن منانے میں مشغول ہے۔ اپنی غلط سوچ پر مغرور نہ ہو اور هوش کر ۔ کیا تو نے خدا کا یہ فرمان بھلا دیا ہے کہ حق کا انکار کرنے والے یہ نہ سمجھیں کہ ہم جو انہیں مہلت دیتے ہیں یہ ان کے حق میں بھلائی ہے، ہم انہیں مہلت اس لیے دیتے ہیں کہ وہ گناہ میں زیادتی کریں، اور ان کے لیے خوار کرنے والا عذاب ہے۔"
ان چند الفاظ میں اس حقیقت کیطرف اشارہ ملتا ہے کہ خلافت آل رسولؐ کا حق تھا اور یزید اس پر اسلام کے تمام اصولوں کے برخلاف لایا گیا ۔ دوسری تاریخی تصحیح کیلئے حقیقت بیان کی گئی کہ یزید خوشی اور سرود کی کیفیت میں تھا ۔ نہ  کہ غم کی حالت میں  اور نہ ہی اسے افسوس تھا ۔ اہل بیت پر ظلم کو اپنی فتح سے تعبیر کئے بیٹھا تھا ۔
بی بی نے اپنے خطبہ کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا ۔
"اے طلقاء کے بیٹے! کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تو نے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم کر کے پردے میں بٹھا رکھا  ہے جبکہ رسول زادیوں کو سر برہنہ در بدر پھرا رہا ہے۔ تو نے مخدرات عصمت کی چادریں لوٹ لیں اور ان کی بے حرمتی کا مرتکب ہوا۔ تیرے حکم پر اشقیاء نے رسول زادیوں کو بے نقاب کر کے شہر بہ شہر پھرایا۔"
کس قدر دکھ کا مقام ہے کہ یزید کی لونڈیوں کو پردہ نصیب ہے اور جنہوں نے عرب کی بے حیائی میں پردہ متعارف کرایا ۔ جن کے سر کا بال فلک نے کبھی نہیں دیکھا تھا ، انہیں کوفہ اور شام کی مسافت کے دوران ہر ہر منزل پہ لوگوں نے دیکھا ۔ ایسے فاسقین کو اسلام میں کس درجے پہ رکھا جا سکتا اور انسانیت کے کس مقام پر؟
--- جاری ہے ۔۔۔
آزاد ھاشمی
١٦ ستمبر ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment