" علیؑ کی بیٹی نے فرمایا (۴) "
یزید کے دربار میں تمام وقت پرست اور خوشامدی موجود تھے ۔ کسی میں مجال نہیں تھی کہ حق کی کسی ایک بات کو رد کر سکے ۔یہ صرف علیؑ کی بیٹی تھیں جو اس طرح مخاطب تھیں ۔ یزید جانتا تھا کہ اسکے سامنے رکھے ہوئے بہتر سر چالیس ہزار کی جری فوج اتار پائی تھی ۔ وہ بھی ہر شہید پر تیر برسا کر ، یا چھپ کر وار کرنے سے ممکن ہوا تھا ۔ یزید جانتا تھا کہ اگر یہ مختصر سا قافلہ پیاسا نہ رکھا جاتا تو شاید تیروں کی برسات بھی اسکی اس بد بختی کیطرف بلانے والی کامیابی ممکن نہ بنا سکتی ۔ زینبؑ نے قرآن کی آیت پڑھی ۔
" اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں انہیں مردے نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے ہاں سے رزق دیے جاتے ہیں۔"
اس آیت کا تذکرہ واضع کرتا ہے کہ حسینؑ کی شہادت اقتدار کیلئے نہیں بلکہ اللہ راہ میں تھی ۔ آج کے یزید نوازوں کی اس بحث کا دوسرا رد تھا جو کہتے ہیں کہ کربلا دو شہزادوں کی جنگ تھی ۔ بلکہ یہ حق اور باطل کا معرکہ تھا ۔ بی بی نے مزید فرمایا
”افسوس تو اس بات پر ہے کہ شیطان کے ہمنوا اور بد نام لوگوں نے رحمان کے سپاہیوں اور پاکباز لوگوں کو تہہ تیغ کر ڈالا ہے۔ اور ابھی تک اس شیطانی ٹولے کے ہاتھوں سے ہمارے پاک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ ان کے ناپاک دہن ہمارا گوشت چبانے میں مصروف ہیں اور صحرا کے بھیڑیے ان پاکباز شہیدوں کی مظلوم لاشوں کے ارد گرد گھوم رہے ہیں اور جنگل کے نجس درندے ان پاکیزہ جسموں کی بے حرمتی کر رہے ہیں“
”تو (یزید) جتنا چاہے مکر و فریب کر لے اور بھر پور کوشش کر کے دیکھ لے مگر تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ تو نہ تو ہماری یاد لوگوں کے دلوں سے مٹا سکتا ہے اور نہ ہی وحی الٰہی کے پاکیزہ آثار محو کر سکتا ہے۔ تو یہ خیال خام اپنے دل سے نکال دے کہ ظاہر سازی کے ذریعے ہماری شان و منزلت کو پا لے گا۔ تو نے جس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے اس کا بد نما داغ اپنے دامن سے نہیں دھو پائے گا۔ تیرا نظریہ نہایت کمزور اور گھٹیا ہے۔ تیری حکومت میں گنتی کے چند دن باقی ہیں۔ تیرے سب ساتھی تیرا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ تیرے پاس اس دن کی حسرت و پریشانی کے سوا کچھ بھی نہیں بچے گا۔ جب منادی ندا کرے گا کہ ظالم و ستم گر لوگوں کے لیے خدا کی لعنت ہے۔"
آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ جاہ و جلال میں غرق تمام شیاطین کا کیا حال ہوا ۔ آج آل رسولؐ کے کسی دشمن کا نشان باقی نہیں ۔ یزید کی قبر ایک تنگ گلی میں ہے جہاں پر کتوں کی جائے حاجت بنی ہوئی ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٨ ستمبر ٢٠١٩
Wednesday, 18 September 2019
علیؑ کی بیٹی نے فرمایا (۴) "
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment