" یزید کی دادی (١)"
ہادیئ برحق حضرت محمدؐ کے اعلان نبوت کے ساتھ ہی عرب کے کفار اور مشرک مشتعل ہوگئے ۔ ان سب کو شہ دینے میں وہاں کے سردار پیش پیش تھے ۔ بتوں کو چھوڑ کر ایک خدائے واحدہُ لاشریک کی عبادت انہیں قبول نہیں تھی ، کیونکہ انکی سرداری ہی ان الگ الگ بتوں پر ایمان رکھنے کیوجہ سے قائم تھی ۔ یہ سردار اخلاقی اور کردار کی پستی کے ساتھ اقتدار کی ہوس کا بھی شکار تھے ۔ انہی سرداروں میں عتبہ بن ربیعہ بھی شامل تھا ۔ یہ شخص اسلام کے دشمنوں کی ہراول فہرست میں تھا ، جسے غزوہ بدر میں حضرت حمزہؓ نے واصل جہنم کیا ۔ اسکے ساتھ ہی اسکے دو بیٹے بھی واصل جہنم ہوئے ۔ یہ تینوں افراد ، ہندہ بنت عتبہ کے والد اور بھائی تھے ۔ اس تمہید کی ضرورت یوں محسوس ہوتی ہے کہ کسی بھی فرد پر رائے قائم کرنے سے پہلے ، اسکے کردار کا احاطہ اور عادات و اطوار کو جاننا ضروری ہوتا ہے ۔ بیشتر اس سے کہ دیگر پہلووں پر رائے قائم کی جائے کہ ہندہ کے کردار کا نہایت اہم پہلو یہ بھی ہے کہ موصوفہ کینہ پروری میں اس انتہا پہ تھیں کہ جب غزوہ احد میں حضرت حمزہ شہید ہوگئے تو انگا سینہ چاک کیا گیا ، دل کو سینے سے نکالا گیا ، چبا کر نگلنے کی کوشش کی گئی ۔ کسی لاش کی اسقدر بے حرمتی اور وہ بھی ایک خاتون کے ہاتھوں ، کوئی ایسا واقعہ نہیں تھا کہ اسے جنگی چال کہا جا سکے ۔ یہ نہ بھولنے والی بربریت تھی ، جس وجہ سے موصوفہ کو " ہندہ جگر خور " کی پہچان مل گئی ۔ کیونکہ " ہندہ یا ہند " عربوں میں عام مستعمل نام تھا ۔ تو یہ پہچاننے کیلئے کہ کس ہندہ کی بات ہو رہی ہے ، عام زد زبان جو نام موصوفہ کی پہچان بن گیا ، وہ یہی " ہندہ جگر خور " تھا ۔
ہندہ کے معتقدین انکی عظمت میں اور اس کریہہ جرم کی معافی کے حق میں چند دلائل پیش کرتے ہیں اور موصوفہ کو رضی اللہ عنھا کہتے بھی ہیں اور انکے جنتی ہونے پر قائل بھی کرتے ہیں ۔ اور ہندہ کو رضی اللہ نہ کہا جائے تو نہ کہنے کے ایمان پر شک بھی رکھتے ہیں ۔ دلائل ملاحظہ ہوں ۔
١۔ چونکہ موصوفہ فتح مکہ میں مسلمان ہوگئیں ، اسلئے زمانہ جاہلیت کا جرم معاف ہو گیا ۔
٢۔ چونکہ اللہ کے نبی پاک نے معاف کر دیا ، اسلئے یہ جرم ختم ہو جاتا ہے ۔
٣۔ چونکہ موصوفہ کی بیٹی ازدواج مطہرات میں شامل ہیں ، اس اعتبار سے رسولؐ پاک سے خاص نسبت بن جاتی ہے اورنبی کی ساس ہونے کے شرف کی بناء پر رضی اللہ عنہا ہونا انکا حق ہو جاتا ہے ۔
۴۔ چونکہ موصوفہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد اسلام کیلئے کئی جنگوں میں حصہ لیا ، لہذا جہاد کی بنا پر انہیں جنت میں جانے کا استحقاق ملتا ہے ۔
ان تمام دلائل کے جواب میں ایک طویل بحث ناگزیر ہے ، مختصر دلائل کو چند حصوں میں تقسیم کریں گے تاکہ موضوع واضع ہوجائے ۔ واضع کردینا چاہوں گا کہ مجھے اس موضوع پر تحریر کیلئے ایک محقق نے مجبور کیا ، کیونکہ انکی رائے میں اگر ہندہ کے رضی اللہ عنہا ہونے اور انکے جنتی ہونے کا اقرار نہ کیا جائے تو کفر لازم ہے ۔ اسلئے یہ تحریر لکھنا پڑی ۔
۔۔۔ انشاء اللہ اگلی قسطوں میں درج بالا دلائل کی روشنی میں لکھوں گا ۔۔۔
آزاد ھاشمی
١٦ ستمبر ٢٠١٩
Wednesday, 18 September 2019
یزید کی دادی (١)"
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment