" یزید کی دادی (٢)"
اسلام کا درس نہیں کہ فساد کو طول دیا جائے ۔ فاتح کیلئے بہت آسان ہوتا ہے کہ وہ مفتوح کیساتھ جو چاہے سلوک کرے ۔ فتح مکہ پہ فاتح " رحمتہ اللعالمین " ہیں ۔ اور مفتوح وہ لوگ جنہوں اللہ کے نبی کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا اور ایک تسلسل کے ساتھ جنگوں میں الجھانے کی کوشش کرتے رہے ۔ یہ وہ لوگ تھے جن کی فطرت میں فساد تھا اور جو اپنی سرداری کیلئے کسی بھی نیچ حرکت کیلئے دریغ نہیں کرتے تھے ۔ یہاں اسلام کو قبول کرنے والوں کو کریڈٹ نہیں جاتا کہ انہوں نے اسلام قبول کیا ۔ یہ فاتح کی عظمت ہے کہ اس نے سارے گناہ اور خطائیں معاف کر دیں ۔یہی لوگ ہیں جنہیں طلقاء کہا جاتا ہے اور یہ لقب اللہ کے نبیؐ کیطرف دیا گیا ۔
اہل سنت عالم دین حسن بن فرحان مالکی نے طُلَقَاء کو مقام و منزلت کے اعتبار سے تین گروہوں میں تقسیم کیا ہے:
پہلا گروہ ان لوگوں کا تھا جن کی درستی ایمان پر پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم مطمئن تھے لیکن انہیں مؤلفہ قلوب جیسی کوئی چیز نہ دی مثلاً عکرمہ بن ابو جہل، عتاب بن اسید اور جبیر بن مطعم۔
دوسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جنہیں رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تالیف قلوب کے لیے اموال وغیرہ دیے؛ مثلاً ابوسفیان، معاویہ، صفوان بن امیہ اور مطیع بن اسود اور اس گروہ کو طلقاء میں کم ترین مرتبہ کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
یہ ایک الگ بحث ہے کہ انہیں اموال کیوں دئے گئے , جسے موضوع کی طوالت سے بچتے ہوئے ، اسکی تفصیل میں نہیں جایا جا سکتا ۔
تیسرا گروہ ان دونوں کے مابین ہے جس میں حارث بن ہشام، سہیل بن عمرو اور حکیم بن حزام شامل ہیں۔
اسلام قبول کر لینا اور ایمان لے آنا دو الگ الگ صورتیں ہیں ۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اگر فتح مکہ کی صورت حال پیدا نہ ہوتی اور مسلمان اس طاقت میں نہ آتے کہ کفار پر غلبہ حاصل کر لیں ۔ تو مکہ کے یہ سارے سردار کبھی اسلام قبول نہ کرتے ۔ ان میں ایک خوف تھا کہ اگر اب بھی اسلام کی مخالفت جاری رکھی تو انکا مستقبل خطرات سے دوچار رہے گا ۔ ایسی روشنی انکے دلوں میں نہیں تھی جو حق اور باطل میں تمیز کر کے انہیں اسلام سے قریب تر کرتی ۔ یہ جنگی نقطہ نظر سے مفتوح تھے اور عرب کے دستور کے مطابق اب فاتح چاہے تو انہیں بطور غلام رکھے یا انہیں عام شہری کیطرح آزادی دے دے ۔ اس لئے ان سب کیلئے " طلقاء " کا لفظ استعمال کیا گیا ۔ جن لوگوں کو فتح مکہ کے وقت یہ آزادی دی گئی انکی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے ۔ فتح مکہ پر مسلمان ہو جانے پر یہ دو ہزار لوگ نہ تو " رضی اللہ " ہو جاتے ہیں اور نہ ہی ان پر جنت " واجب " ہوتی ہے ۔ کیونکہ ان دونوں انعامات کا رسولؐ پاک نے نہ اسوقت اعلان فرمایا اور نہ ہی بعد میں کبھی ایسا تذکرہ فرمایا ۔
انہیں آزاد کر دیا گیا یہ بہت بڑی عنایت تھی ۔
انہی طلقاء میں ابو سفیان بھی شامل تھا اور ہندہ بھی ۔ باور رہے کہ جب ہندہ اسلام قبول کرنے کی غرض سے آئیں تو اسوقت بھی وہ بت گھر میں موجود تھا ، جسکی ہندہ عبادت گذار تھیں ۔ جو اسلام کی قبولیت کے بعد گھر جا کر توڑا گیا ۔ گویا اللہ کے نبیؐ کی مجلس میں حاضری سے پہلے تک شرک موجود تھا ۔
۔۔۔۔۔اگلی قسط میں بیعت میں ہونے والی گفتگو کا ذکر ہو گا ۔ تاکہ اسلام لانے کے وقت کے تاثرات کی وضاحت ہو سکے ۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
١٩ ستمبر ٢٠١٩
Friday, 20 September 2019
یزید کی دادی (٢)"
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment