Tuesday, 17 September 2019

علیؑ کی بیٹی نے فرمایا (٣)

علیؑ کی بیٹی نے فرمایا (٣)  
اگر ہم بے لاگ ہو کر صرف حضرت زینبؑ کے خطبہ کا ایک ایک پہلو دیکھتے جائیں تو آج کے بیشمار ابہام خود بخود ختم ہو جاتے ہیں ۔ اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ اسداللہ الغالب کی بہادر بیٹی نے جو جو کہا ، وقت نے ثابت کیا کہ وہ سب یزید اور اسکے حواریوں کے ساتھ ہوا ۔ یزید کا جاہ و جلال تین ساڑھے تین سال میں ختم ہوا اور اپنے انجام کی طرف لوٹ گیا ۔ پاک و اطہر بی بی نے اپنے خطبہ کو جاری رکھتے ہوئے مزید فرمایا تھا ۔
”اے یزید! یاد رکھ کہ خدا، آل رسول  کا تجھ سے انتقام لے کر ان مظلوموں کا حق انہیں دلائے گا۔ اور انہیں امن و سکون کی نعمت سے مالا مال کر دے گا۔ "
پھر فلک نے دیکھا کہ جبر و استبداد کا یہ نشان کس بے بسی کی موت مرا ۔ ایک سلطنت کی بادشاہت کے بادشاہ کو گمنام سے گاوں میں لے جایا گیا ، تاکہ اسکی جان کنی کا تماشا پوشیدہ رہے ۔  تاریخ کا کوئی قاری اور یزید کی حمایت میں تحقیق کرنے والا کوئی محقق یزید کی موت پر نہ کوئی مدلل رائے دے پاتا ہے اور نہ اس سوال کا جواب ہے کہ اسے اسی گاوں میں دفن کیوں کیا گیا جہاں وہ پیدا ہوا تھا ۔ اسکی تو اپنی حکمرانی میں موت ہوئی تھی ، جاہ و جلال اور شاہانہ وقار کے ساتھ پایہ تخت میں تدفین میں کوئی رکاوٹ بھی نہیں  تھی ۔ یہ ایک نشان ہے جو قیامت تک آل رسولؐ کے حق کی گواہی دیتا رہے گا ۔
یہی وہ راز تھا ، جس کا تذکرہ علیؑ کی بیٹی نے فرما دیا تھا ۔
۔۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔
آزاد ہاشمی
١٧ ستمبر ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment