Monday, 30 September 2019

اِلَّا  الْمُصَلِّیْنَ " (١)

" اِلَّا  الْمُصَلِّیْنَ " (١)
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سورہ المعارج میں حقیقی نمازیوں کے اوصاف بیان فرمائے ہیں ۔ 
پہلا وصف جو بیان فرمایا وہ یہ ہے
"کہ وہ ہمیشہ اپنی نماز پر متوجہ رہتے ہیں "
نماز ، اپنے رب کے ساتھ براہ راست رابطے کا عمل ہے ۔ دن میں پانچ بار فرضیت اور قرآن پاک میں بار بار تاکید اسی لئے ہوئی کہ بندہ اپنے خالق سے قریب تر ہو جائے ۔ نماز کی ادائیگی میں اس انہماک کا ہونا ضروری ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سامنے حاضری کے وقت دوسرے تمام معاملات ، خیالات ، وسوسے اور سوچیں دور رکھ دی جائیں اور جب تک اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سامنے رکوع و سجود میں رہیں اپنی تمام تر توجہ نماز پر ہو ۔ ایسی نماز جو فرض سمجھ کر بغیر انہماک کے ادا کی جاتی ہے ، فرض کی ادائیگی تو ہو جاتی ہے مگر ان ثمرات سے خالی رہ جاتی ہے جو اللہ اپنے بندے کو دینا چاہتا ہے ۔ اپنے پسندیدہ نمازیوں کی اسی کیفیت کو بیان فرمایا گیا ہے کہ انکی تمام تر توجہ نماز کی اہمیت کے مطابق ہوتی ہے ۔ صرف فرض کو نبھانا مقصود نہیں ہوتا ۔
دوسری کیفیت کو بیان فرمایا کہ
" اور جن کے مال میں سوال کرنے والے اور محتاجوں کا مقررہ حصہ ہوتا ہے "
نماز کی تاکید کے ساتھ زکوٰة کی تاکید بھی فرمائی گئی ہے ۔ وہ لوگ جن کو اللہ نے وسائل میں کشائش دے رکھی ہے ۔ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نماز کی فرضیت کو پورا کر لینے سے رب کی رضا کے کما حقہُ حقدار ہو جاتے ہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے تخصیص فرما دی کہ اسکی نظر میں اصل نمازی وہ ہے جو ہر سوال کرنے والے کی حاجت روائی بھی کرتے ہیں ۔ اور ایسے محتاجوں سے بھی بے خبر نہیں رہتے جو سوال نہیں کرتے ۔ با جماعت نمازوں کی تاکید کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہر نمازی اپنے قرب و جوار میں ہر ضرورت مند سے با خبر رہے ۔ اور نماز کی معراج یہی ہے کہ وہ اپنے وسائل میں باقاعدہ ضرورت مندوں کا حصہ رکھیں ۔
ہم نے نماز کو اس کے مقصد کے تناظر میں دیکھا ہی نہیں ۔  اگر وہ مقصد سمجھ آ جاتا تو جنت بھی ملتی ، اللہ کی رضا بھی حاصل ہوتی ، شیطان کی ہر چال ناکام ہوتی ، حرص اور ہوس غالب نہ آتی اور معاشرتی برائیاں از خود دم توڑ دیتیں ۔ اللہ کے ہاں پسند کئے جانے والے نمازی کے اور بھی شرائط مذکور ہیں ۔۔
۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
٢٩ ستمبر ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment