Monday, 30 September 2019

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ "( ٢ )

" اِلَّا  الْمُصَلِّیْنَ "( ٢ )
حقحقی نمازیوں کے جو اوصاف سورہ المعارج میں بیان ہوئے ہیں ، ان میں  اللہ سبحانہ تعالیٰ نے مزید  بیان فرمائے  ہیں ۔ 
"اور جو قیامت کے دن کا یقین رکھتے ہیں "
قیامت پہ یقین رکھنے سے صرف یہی مراد نہیں کہ قیامت کو ایک روز آنا ہے ۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے مگر یہاں  یہ مراد ہے کہ قیامت کے بعد کیا ہوگا ؟ روز جزا پر " مالک یوم الدین " کے سامنے حاضری ہو گی ۔ ہر نفس کے اعمال کا حساب ہو گا ۔ جب یہ یقین ہو جائے تو نماز میں حاضری کے وقت طاری ہونے والی کیفیت قطعی مختلف ہوگی ۔ صرف رکوع و سجود کافی نہیں ہونگے بلکہ اپنا نامہ اعمال سامنے ہوگا ۔ اللہ کے جلال اور کبریائی کے سامنے سجدوں پر تفاخر نہیں ہوگا ۔ ایسے میں ایک ایک ایک لفظ جو ادا ہوگا ، وہ پورے ادراک سے ہو گا ۔ اس کیفیت کو بیان کیا گیا ہے کہ جب حقیقی نمازی ، رکوع و سجود میں ہوتے ہیں تو انکی کیفیت عام نمازی سے بالکل مختلف ہوتی ہے ۔ وہ ہر لفظ گڑگڑا کے ادا کرتا ہے ۔ دنیا بھول چکی ہوتی ہے ۔ روایت ہے کہ جب حضرت علیؑ  نماز کیلئے کھڑے ہوتے تو انکے بدن میں لرزہ طاری ہوتا ،  رنگ زردی مائل ہو جایا کرتا اور ہونٹ کپکپانے لگتے تھے ۔ اللہ کے جلال کا خوف طاری ہوتا ۔ ایسی کی کیفیت کئی ایک صحابہؓ پر ہوا کرتی تھی ۔  اس کیفیت کو مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ۔
"نیز اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں،   یقیناً آپ کے پروردگار کا عذاب ایسا نہیں ہے جس سے بے خوف ہوجایا جائے "
اللہ قادر مطلق ہے ۔ کوئی شک نہیں کہ غفور بھی ہے اور رحیم بھی ہے ۔ در گذر بھی فرماتا ہے اور معاف بھی کرتا ہے ۔ اس زعم میں رہ کر عبادت کا حق ادا نہ کرنا ، کسی طور دانشمندی نہیں ۔ کون جانے کہ ہمارا کونسا عمل ، جسے ہم بخشش سمجھ کر ادا کرتے ہیں ۔ اسکے ہاں قبول بھی ہوا کہ نہیں ۔ کیا معلوم کہ اسکی رحمت سے زیادہ ہم اسکی پکڑ کے مورد بن جائیں ۔ روایت ہے کہ وصال سے کچھ عرصہ پہلے سرور کائنات حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم نے " استغفار " میں شدت اختیار کر رکھی تھی ۔ یہ تصور بھی گناہ کبیرہ اور کفر ہے کہ نبیؐ سے کوئی خطا تو بہت بڑی بات ہے کہ کوئی چوک بھی ہو جائے ۔ مگر اس کے باوجود اسقدر استغفار کا دہرانا ، ہماری رہنمائی ہے ۔ کہ عبادت و ریاضت کے کسی بھی درجے پہ کیوں نہ ہوں ۔ اللہ کا خوف دل میں قائم رہنا چاہئیے اور کسی بھی عبادت کو کافی نہیں سمجھ لینا چاہئے ۔ اسی کیفیت کو ان آیات میں بیان فرمایا گیا ہے کہ حقیقی نمازی ہر وقت اسی کیفیت میں رہتے ہیں اور رکوع سجود کے وقت یہ کیفیت مزید طاری ہو جاتی ہے ۔
۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔ 
آزاد ھاشمی
٣٠ ستمبر ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment