" اسراف اور اسراف کرنے والے "
حکم ربی ہے کہ
" بے جا ( اسراف ) خرچ نہ کرو ، اللہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا "
بے جا خرچ نہ کرنے کو سمجھنا ، آسان اور بالکل عام فہم ہے ۔ ہر وہ خرچ جو ضروریات سے ہٹ کر کیا جائے ، نمائش اور دکھاوے کی غرض سے ہو ، جس خرچ سے کسی بھی ذی روح کو فائدہ نہ ہو ، سب اسراف ہے ۔
سیاست کی بساط پر کیا جانے والا خرچ ، کیا کہلائے گا ۔ اس پر قطعی رائے تو مفتیان کا کام ہے ۔ مگر عام علمیت کا حامل ہر شخص اس پر ہم خیال ہے ، یہ کروڑوں ، اربوں کے اخراجات ، جس کا کسی ذی روح کو فائدہ نہیں ، سوائے ذاتی اقتدار کے حصول کی کوشش کے ، اسکا کوئی مثبت ، شرعی اور اسلام کے قواعد و ضوابط کا جواز نہیں ۔ لہذا اسے اسراف کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا ۔ جس شخص کے اردگرد ، ان گنت ضرورت مند ، مستحق اور مفلوک الحال لوگ موجود ہوں ، انکی ضروریات کو نظر انداز کر کے ، جو بھی خرچ کیا جائے گا ۔ اسراف ہے اور یہ اللہ کو نا پسند ہے ۔
یہ سیاسی تگ و دو ، اشتہارات ، جلسے ، مذاکرے اور نمائشی پروگرام ، سب اسراف ہے ۔
پر تعیش گاڑیاں ، بڑے بڑے گھر ، بڑی بڑی ضیافتیں ، اہل اقتدار کا پروٹوکول ، حکومتی محلوں کے بے ہنگم اخراجات ، اسمبلیوں کے ممبران کی مراعات ، سب اسراف ۔ سادگی کا درس دینے والے ، خیرات پر مدرسے چلانے والوں کی پر آسائش زندگیاں اسراف ۔
اگر ہم احتساب کی نظر سے دیکھیں ، تو سیاست کا سارا کھیل اسراف ۔
جو چیز ، جو عمل اللہ کو نا پسند ہے ، اسے زندگی کا حصہ بنا لینا اور اس پر مصر رہنا ، اس کیلئے توجیہات تلاش کرنا ، دلائل کے کھوج میں لگے رہنا ۔ اللہ کے حکم سے انکار ہے ۔ اور اللہ کی ناراضگی کا مکمل سبب ۔
ہم غور کر لیتے تو جس معاشی پسماندگی کا شکار ہیں وہ نہ ہوتے ۔
ازاد ہاشمی
Monday, 24 April 2017
اسراف اور اسراف کرنے والے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment