Tuesday, 25 April 2017

سیاسی لیڈر اخلاقی دیوالیے

اگر ہم سیاستدانوں اور انکے حواریوں کا بغور جائزہ لیں , انکے بیانات , الزامات , ذاتی معاملات پر کیچڑ اچھالنے اور بحث و تمحیص میں ہونے والی گفتگو , سوشل میڈیا پر کارٹون اور تصاویر کی نمائش دیکھیں تو لگتا ہے کہ سب کے سب گلی محلوں کے غنڈے ہیں - تہذیب نام کی کوئی بھی شے انکے پاس سے نہیں گزری -
لیڈر کسی بھی قوم کی شناخت ہوا کرتے ہیں ,
تہذیبی اقدار کے امین ہوتے ہیں , آنے والی نسلوں کو رہنمائی دینے کا اہتمام کرتے ہیں ,
قوم میں شعور دیتے ہیں -
یہ ہمارے لیڈر کیا دے رہے ہیں - ہماری نسلوں کے لئے کونسی فصل بو رہے ہیں - یہ جو کر رہے ہیں , اسے کوئی بھی زی شعور ,وطن اور قوم کی خدمت نہیں کہہ سکتا -
اس پر طرہ یہ کہ ہر لیڈر نے صحافت کی منڈی سے صحافی خرید رکھے ہیں , دانشور بھی شو کیسوں میں سجے پڑے ہیں , جو اچھے دام دے گا ,اسی کے افعال کو سراہیں گے -
اسے کون ترقی کہے گا - مغربی تہذیب کے پجاری تو جو کر رہے ہیں , انکو کون روکے گا , مگر زبان اور الزام تراشی کا جو انداز مذہبی لوگوں نے بھی اپنا لیا ہے , وہ بھی شائستگی کی حدود سے باہر ہے - ایسے لگتا ہے کہ لیڈر مداری ہو گیے ہیں اور قوم تماش بین - روز  ایک  نیا  مداری ایک نئی ڈگڈگی بجانے آ جاتا ہے اور ہم دیہات کے چھوٹے بچوں کی طرح بھاگ کھڑے ہوتے ہیں , کہ تماشا دیکھیں گے - آج جتنے بھی لیڈر ہیں گھوم پھر کے سب کی خواہش کرسی ہے اور سب کے سب لبرل , سیکولر اور مغربی تہذیب کے لئے کوشاں ہیں , کچھ مذھب کے لبادے میں انہی کی پشت پر کھڑے ہیں - ہم اس دلدل میں گھستے جا رہے ہیں - اور سمجھ رہے ہیں کہ ترقی کی منزل یہی ہے - حالانکہ یہ اخلاقیات , تہذیب اور تمدن کی موت کی طرف جانے والی راہ ہے -
ہوش کرنے کی ضرورت ہے.
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment