ثواب
ثواب ۔ یہ لفظ وہ ہے جو دنیائے مذہب میں سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے لیکن جس کا متعین مفہوم بہت کم سامنے آتا ہے۔ مثلاً ایسا کہا جائے گا کہ تم ایسا کرو۔ اس سے بہت ثوابؔ ہو گا۔ لیکن اگر پوچھا جائے کہ اس کامطلب کیا ہے۔ اس سے کیا ہو گا۔ اس سے کیا ملے گا‘ تو اس کا جواب صرف اتنا دیا جائیگا کہ اس سے ثوابؔ ہو گا۔ اس سے ثواب ملے گا۔ یعنی ہمارے ہاں یہ لفظ ایسا مجرد (ABSTRACT) بن کررہ گیا ہے جس کا کوئی محسوس (CONCRETE) مفہوم سامنے نہیں آتا۔ بنا برین‘ اس کے صحیح مفہوم کا سمجھ لینا ضروری ہے۔
اس لفظ (ثواب) کا مادہ ۔(ث۔و۔ب) ہے جس کے بنیادی معنی ہیں کسی چیز کے چلے جانے کے بعد اس کا پھر واپس آجانا۔ بیماری سے انسان کمزور ہوجاتا ہے۔ صحت یاب ہونے کے بعد اس کی زائل شدہ توانائی کے واپس آجانے کے لئے کہتے ہیں ثَابَ جِسْمُہ‘۔ اس کا جسم پھر اپنی پہلی حالت پر آگیا۔ اگر کسی حوض کی یہ صورت ہو کہ اس سے جس قدر پانی نکل جائے اتنا ہی واپس آجائے تو اس کے للئے کہیں گے ثَابَ الْمَاءُ۔
آپ کوئی کام کریں۔ اس میںآپ کو وقت ‘ روپیہ‘ توانائی وغیرہ صرف ہوں گے۔ اس کے بعد اگر اس کا نتیجہ ایسا مرتب ہو جس سے یہ سب کچھ واپس لوٹ آئے تو اسے اس کام کا ثواب کہاجائے گا ۔ یہ ہے اس لفظ کا بنیادی مفہوم۔ (کاروباری دنیا میں انگریزی زبان کا لفظ (RETURN) اس کامفہوم سامنے لے آتا ہے۔ اس کے بعد اسے مکافاتِ عمل۔ یعنی اعمال کے نتائج کے لئے بھی استعمال کرنے لگ گئے۔
(1) اعمال کے نتائج کے معنوں میں
کفار کے اعمال کے نتائج۔ (83:36)
ایمان واعمالِ صالح کے نتائج۔ (3:195) ۔ (5:85) ۔ (18:31) ۔ (18:44) ۔ (18:46) ۔ (19:76)
(2) ثواب اللہ (29:80)
(3) ہمارے ہاں عام تصور یہ یہ کہ ثوابؔ ‘ آخرت میں جا کر ہی ملے گا۔ لیکن قرآن کریم میں ثواب الآخرہؔ اور ثواب الدنیاؔ دونوں آئے ہیں۔ یعنی اعمالِ صالح کا نتیجہ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
جو ثواب الدنیا چاہے گا اُسے ثوابِ دنیا مل جائے گا۔ جو ثوابِ آخرت چاہے گا اسے ثوابِ آخرت مل جائے گا۔ (3:144) ۔خدا کے ہاں ثوابِ الدنیا اور ثواب الآخرت دونوں نہیں (4:134) ۔ خدا کی راہ میں جہاد کرنے والوں کو ثواب الدنیا اور ثواب الآخرۃ دونوں ملتے ہیں (3:147) خدا کے ہاں سے حسن التواب ملتا ہے۔ (3:194)
فتح قریب ‘ ثواب الدنیا ہے جو مومنوں کو عطا ہوتا ہے (48:18)
لہٰذا ثواب‘ انسانی اعمال کا وہ نتیجہ ہے جو محسوس شکل میں اس دنیا میں بھی ملتا ہے۔ اور آخرت میں بھی ملے گا۔ اس سے یہ بھی واضح رہے کہ یہ جو ہمارے ہاں ایصالِ ثواب کا عقیدہ رائج ہے۔
قرآن سے اس کی سند نہیں ملتی۔ جب ثواب کے معنی اپنے اپنے عمل کا نتیجہ ہیں‘ تو ایک شخص کے اعمال کے نتائج کسی دوسرے کی طرف منتقل کیسے ہو سکتے ہیں
(4) الثوب بھی اسیمادہ سے ہے جس کے عام معنی کپڑے ہیں لیکن عربوں کے ہاں ثیاب سے مراد انسان کی شخصیت بھی لیتے ہیں چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ فَلَاٌن وَنِسُ الثِّیَابَ۔ وہ شخص بڑی خبیث فطرت کا ہے ۔ اس کی شخصیت بڑی خراب ہے۔ (11:5) ا ور (71:7) میں یہ لفظ انہی معنوں میں آیا ہے ۔اس لحاظ سے قرآنِ کریم میں جو نبی اکرمؐ سے کہا گیا ہے کہ ثِیَابَکَ فَطَھِّرْ (74:4) تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اپنی سیرت وکردار کو پاکیزہ رکھو۔
لیکن تَثْوِیْبٌ کے معنی ہیں لوگوں کو آواز دے کر بلانا۔ اکٹھا کرنا۔اس اعتبار سے ثِیَابَکَ فَطَھِّرْ کے معنی ہوں گے اپنی دعوت وپکار کو پاک اور صاف رکھو۔ اس میں نہ تو غلط تصورات ومقاصد کی آمیزش ہونے دو‘ نہ غلط قسم کے لوگوں کو اس میں گھسنے دو۔
(5) عام کپڑوں کے معنوں میں بھی یہ لفظ (ثیاب) آیا ہے (24:58) ۔ (24:60)
* ۔۔۔ * ۔۔۔ *
Saturday, 29 April 2017
ثواب
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment