" چلو جشن منائیں "
قوم کا وزیراعظم سرخرو ہو گیا ۔ عدالت نے عدل کا ترازو جھکنے نہیں دیا ۔ اکثریت جیت گئی ۔ جمہوریت کا میٹھا پھل ، قوم جی بھر کے کھائے گی ۔ سارے مسائل اب پلک جھپکتے حل ہو جائیں گے ۔
قوم کو ماتم کرنا ہو گا ، ان قائدین کی عقلوں کا ، جو سوچ رہے تھے کہ عدالت برے کو برا اور اچھے کو اچھا کہے گی ۔ عدالتوں میں مصلحت اندیشی کا رواج ہو گا ، تو فیصلے اسی طرح کے آئیں گے ۔ اب جو بولے گا ، عدالت کی توہین کا مرتکب ہو گا ۔ یہ سارے قواعد و قانون اکثریت نے بنا رکھے ہیں ، انہیں ماننا ہو گا ۔ ان کی اطاعت کرنا ہو گی ۔ اندھوں کے نگر میں روشنی ہو یا اندھیرا کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
اس سارے کھیل میں اصل مجرم وہ نہیں جو ملک لوٹ رہے ہیں ، اصل مجرم وہ ہیں جو اپنی امانت داری کا ڈھنڈورا پیٹ کر ان مجرموں کی راہ ہموار کرتے ہیں ۔
آج اگر اسلام کا نظام ہوتا تو کیا فیصلہ ہوتا ۔ اگر پانامہ کیس سچائی تھی تو وزیراعظم کو کیا سزا ہوتی ، اگر جھوٹ تھا تو الزام لگانے والے کو کیا قیمت چکانی پڑتی ۔ اب اس نظام کے آگے اصل رکاوٹ کے تمام ذمہ دار قوم ، وطن اور مذہب کے مجرم ہیں ۔ انکی سرزنش کرو تاکہ انہیں ہوش آئے ۔
تماش بین قوم کو فیصلہ کرنا ہو گا ۔ کفر یا ایمان ۔ دونوں میں سے ایک نظام اپنانا ہو گا ۔ اگر ایمان کا نظام ہوا تو جج کو جرات نہیں ہو گی کہ وہ سیاسی فیصلے کرے ۔ اگر جمہوریت رہی تو پھر اکثریت ہی جیتے گی ۔
توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے کا سوچو گے تو رسوائی ملے گی ۔ دیکھ لو ، اور سوچ بدلو ۔ وہ راہ منتخب کر لو ، جس پر اللہ راضی ہے ۔ واویلا کرتے ہو کہ لوگوں کو قانون کی پاسداری کرنا چاہئے ، اب کیا کہتے ہو کہ لوگوں کو کیا کرنا چاہئے ۔
کیا اب جشن مناو گے ؟
ازاد ھاشمی
Monday, 24 April 2017
چلو جشن منائیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment