Saturday, 7 January 2017

اے کربلا کی مٹی



اے کربلا کی مٹی
اے کربلا کی مٹی تجھے یاد تو ہو گا , اے کربلا کی زمین پہ بکھرے نوکیلے کنکروں تم بھی بھول نہیں پاۓ ہو گے , فرات کے بہتے دریا تو بھی گواہ ہو گا - کہ نبی کی بیٹی کے لخت جگر نے کس شان سے الله کے دین کی آبرو سربلند کی - تم گواہی تو دو گے کہ اگر باغ رسول کے یہ سارے پھول خاک کی پیاس اپنے خون نہ بجھاتے تو آج ساری دھرتی الله کے دین سے خالی ہوتی - اگر نبی کی نواسی اپنی چادر قربان نہ کرتی تو آج ہر معصوم کے سر سے چادر چھن گئی ہوتی -
اے فلک کبھی دیکھا تو نے ایسا جس اسلام کی شمع جلاۓ رکھنے کے لئے اپنے گھر کے سارے چراغ بھجا دئیے ہوں -
یزیدیت کے خلاف چند ماہ کے بچے کو کبھی حلق پہ تیر کھاتے دیکھا -
اے فلک ! کبھی دیکھا تو نے حسین جیسا باپ اور علی اکبر جیسا بیٹا , کبھی دیکھا تو نے کربلا جیسا معرکہ - کبھی دیکھا تو نے یزید جیسا ظلم -کبھی  دیکھا
تو نے سکینہ جیسا قیدی - سچ بتا کبھی دیکھا سر کے بالوں سے پردے کی لاج رکھنے والا چہرہ -
اے تاریخ کے لکھاریو ! ہے کوئی مثال کائنات میں کسی ایسے سجدے کی جو حسین نے کیا -
کبھی دیکھا کسی نبی کی آل کو رسیوں میں جھکڑے ہوۓ -
کبھی دیکھی علی کی بیٹی جیسی گرج کسی ظالم کے دربار میں -
کبھی دیکھی یزید جیسی شکست اور رسوائی -
کیا آل رسول کی بے پردہ بیبیوں کو دیکھ کر فلک تو  رویا ہو گا -
جب سکینہ کو طمانچے لگے زمین تو  کانپی ہو گی -
جب حسین کی گردن پہ خنجر چلا نبی کی بیٹی کا کلیجہ تو  کٹا ہو گا -
جب زینب آتش زدہ خیموں میں آل نبی کے پھولوں کو ڈھونڈنے بے پردہ بھاگی فرشتوں کی آنکھیں پر نم تو  ہوئی ہوں گی -
جب کٹے ہوۓ جسموں پہ گھوڑے دوڑے ہوں گے تو خالق کائنات نے لعنت تو  بھیجی ہو گی ظالموں پر –
(آزاد ہاشمی )

No comments:

Post a Comment