ہم نے کیکر بوے ہیں
"
بیٹا ! بیٹھو میری بات غور سے سنو - حکمرانوں سے گلے مت کیا کرو -الله کا نظام
ہے , جیسی قوم ہوتی ہے ویسا حکمران مسلط کر دیتا ہے - ہم نے خود الله
کا نظام چھوڑ دیا - الله کے رسول کے رستے سے ہٹ کر انگریز کی راہ اختیار کر لی -
الله کے دستور کو چھوڑ کر اپنا دستور بنا لیا - اب کیسی شکایت -
ان حکمرانوں کو کون لایا , ہم لوگ لاۓ -
جانتے ہوۓ کہ یہ الله کے احکامات سے باغی ہیں - کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتے
ہیں - الله کی مقرر کردہ حدود کو توڑتے ہیں - خیانت کرتے ہیں - فرائض ادا نہیں
کرتے -
ہم نے ان کو اپنا رہبر مان لیا اور جو
اصل رہبر تھے ان کو بھول گئے -
جب رب روٹھ جاتا ہے تو سارا جگ روٹھ جاتا ہے
- پھر پریشانیاں گھیر لیتی ہیں اور خوش حالی بھاگ جاتی ہے - امن چلا جاتا ہے اور
قتل و غارت گری بسیرا کر لیتی ہے - سکون ختم ہو جاتا ہے اور خوف پھیل جاتا ہے -
الله اپنی رحمتیں روک لیتا ہے اور آفات بھیجنے لگتا ہے -"
سموسے اور پکوڑے بیچنے والا اتنی فکر انگیز
باتیں کرتا ہے - میں سوچتا ہوں یہ سب باتیں ہمارے دانشوروں , مفکروں , مذہبی
رہنماؤں اور ملاؤں کو کیوں یاد نہیں - یہ بڑے بڑے نقاد , صحافی , تجزیہ نگار اور
کالم لکھنے والے کیوں نہیں لکھتے - میں سوچ رہا تھا کہ پھر بولا -
" بیٹا ! ہم بک چکے ہیں - ہم غلام ہیں -
ہمارا آقا ہماری ھوس ہے - ہم ازلی بھوکے ہیں , ہمارے پیٹ نہیں بھرتے - ہم بھکاری
ہو گئے ہیں , ہر کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا دیتے ہیں - جو دینے والا ہے اس سے مانگتے
ہی نہیں -
بتاؤ قصور کس کا ہے , ہمارا یا حکمرانوں کا -
ہم نے کیکر بوے ہیں کیکر - ان پر نہ پھل نہیں
کانٹے لگیں گے -
اب ایک ہی حل ہے , ہم واپس لوٹ چلیں الله کی
طرف , الله کے نظام کی طرف , الله کے حبیب کے اسوہ کی طرف "
میں سوچ رہا تھا کہ کاش ایسا ہو جاے -
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment