Friday, 6 January 2017

" کربلا کا راستہ



" کربلا کا راستہ "
کوفے کے لوگ پریشان تھے کہ یزیدیت اپنی جڑیں گاڑھ رہی ہے  ۔  اللہ کے احکامات اور اسکے رسول کے اسوہ سے انحراف ہو رہا ہے ۔ جبر کی زبان اور ہاتھ  روکنے کی جرات کسی میں نہیں تھی ۔ ایسا ایمان بھی شاز ہی تھا کہ آواز ہی اٹھا لیتا ۔ کوفے والوں کو یہ جرات علی کرم اللہ وجہہ کے لخت جگر کے علاوہ کہیں نظر نہیں آئی ۔ لکھ بھیجا کہ اللہ کے دین کو آپ کی ضرورت ہے ، آپ نے حج کے ارادہ  تبدیل کیا اور رخت سفر باندھ لیا ۔ جو بھی اللہ نے دے رکھا تھا ، سب ساتھ لیا اور نانا کی امت کی آواز پر لبیک کہا ۔
تاریخ لکھنے والے کہتے ہیں کہ اہل کوفہ نے بے وفائی کی ۔ آل رسول صل اللہ علیہ وسلم کو بلا کر وعدہ وفا نہیں کیا ۔ اس عہد شکنی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ سب جانتے تھے۔  یزید کی ظالمانہ فطرت کو ۔  یہ خوف بھی ایک وجہ تھی ۔ اہل کوفہ میں وہ جرات نہیں تھی جو ابن علی کے خون میں تھی ۔ اللہ کی رضا کی طلب جو حسین علیہ السلام کی شان ہے وہ کائنات میں کسی اور کی ہو نہیں سکتے ۔ ہر کسی میں اتنا دم کہاں کہ اپنے دل کے ٹکڑے حرمت اسلام پہ اپنے ھاتھوں سے نثار کر سکے ۔ اللہ کا خلیل ایک بیٹے کی قربانی  پر آنکھوں پٹی باندھنے پر مجبور ہو گیا ۔ مگر یہ تو حسین کا جگر کہ ساری اولاد ، سارے عزیز  ، سارے ساتھی قربان کر دئیے ۔ نہ اللہ سے گلہ نہ امت سے شکایت  ۔ وقت نے ثابت کیا  کہ یزید کے ظلم کی انتہا کیا تھی ۔ اخلاقی پستی کا عالم  بھی  چشم فلک نے  دیکھا ۔ جو شخص آل رسول پر ظلم کے پہاڑ توڑ سکتا ہے ، وہ ساتھ دینے والوں سے کیا کرتا ۔ 
کربلا کا راستہ صرف حسین علیہ السلام ہی طے کر سکتے تھے ۔ کوئی دوسرا نہیں ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment