Friday, 6 January 2017

" یزید سے دوستی



" یزید سے دوستی "
مسالک کی پٹی کو اگر آنکھوں سے اتار دیا جائے  ۔  کربلا میں ھونے والے درد ناک واقعہ کو تاریخ اور حقائق کے تناظر میں دیکھیں تو کون ذی شعور اس سے انکار کر سکتا ہے کہ یزید نے جو بھی کیا وہ ایک حواس باختہ ،
خود سر اور ظالم انسان ہی کر سکتا ہے ۔ سرا سر اسلامی جنگی اصولوں کی بھیانک تخریب ہے جو کفار بھی اپنی جنگی مہموں میں نہیں کرتے تھے ۔ ایسے شخص کو کیا نام دیں گے ۔ جو محض اسلئے کربلا کی زمین کو اہل بیت کے خون سے تر کر دیتا ہے کہ اسکا اقتدار قائم  رہے ۔  کون کہہ سکتا ہے کہ اسے اللہ اور اللہ کے رسول سے محبت ہو گی جو اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت سے اتنا انحراف کرے ۔  نا حق ایک انسان کا قتل ایک بڑا جرم ہے ۔ مگر یہاں تو بہتر کائنات کے بہترین لوگوں کو اپنی بربریت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔ معصوم کے گلے پہ تیر کا نشانہ کونسی جنگی حکمت یے ۔  کون ہے جو دشمنی کی آگ میں اسقدر اندھا ہو جائے کہ اس ہستی کے گھر والوں کو برہنہ پا اور برہنہ سر کر کے  بازاروں میں گھما دے ۔ جس ہستی کا کلمہ پڑھتا ہو ۔ ہے کوئی بربریت کی مثال جو کربلا میں یزید کی بربریت سے بڑھ کر ہو ۔ وہ کونسا قانون ہے جو اس ظلم کی نجات کرا دے گا ۔ اللہ تو ایک قتل معاف نہیں فرماتا پھر یہ بہتر جانوں کا خون ۔
وہ بھی اللہ کی راہ میں ، اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے ، اور اللہ کی رضا کی خاطر  محو سفر قافلہ کا  خون
یزید کی دوستی کا کھلا مطلب اہل بیت کی کھلی دشمنی نہیں تو کیا ہے .
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment