Friday, 6 January 2017

"اہل کوفہ آج بھی ہیں نگر میں تیرے



"اہل کوفہ آج بھی ہیں نگر میں تیرے،"
کوفہ ایک شہر کی پہچان کا نام نہیں ، کئی بد خصلت  انسانوں کے ہجوم کا نام ہے ۔
جس میں وہ لوگ بھی ہیں جو رسول کی محبت کا اعلان بھی کرتے ہیں ، اور رسول کے گھر کو تاراج بھی ۔
وہ بھی جو خصلت میں منافق ہیں ، دیکھنے میں زاہد  ۔
وہ بھی ہیں جن کو یزیدیت کا خوف حق کی مدد سے روکے ہوئے ہے ۔
وہ بھی جو دنیا کی طمع کو اللہ کی رضا پر فوقیت دیتے ہیں ۔
یزیدیت کو اقتدار کی ہوس جو کل تھی وہ آج بھی یے ،  خواہ درندگی میں کسی کو بھی اذیت دینی پڑے ۔ 
کوفے کے دانشور کل بھی گھروں میں گھس گئے تھے آج بھی چھپے بیٹھے ہیں ۔
مقتدر کو تمام برائیوں کے ساتھ قبول کر لینا ،  حق کی آواز کو پہچان کر بھی کنارہ کش رہنا ، ھوا کے رخ پر بدل جانا ،  چڑہتے سورج کی پرستش ، اخلاق باختہ گمراہوں کی اعانت ،  دین سے دوری ، وہ کردار ہیں   جو ہر وقت کے کوفیوں کا رہتا ہے  ۔
یزیدیت سے جنگ میں اس کردار کی اصلاح لازمی ہے۔
شکریہ
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment