موچی کی بہو
ہم پتھر کے زمانے میں نہیں رہتے - دنیا کے
ساتھ چلنا ضروری ہے - یہ تم گھس پونجیوں کے فلسفے ہیں - اسی لئے ساری زندگی
پکوڑے بناتے رہے ہو - نہ ڈھنگ کا کھایا نہ پہنا - کسی ٹاٹ والے اسکول میں پڑھ لیا
اور بس - یہ اوقات ہے تمھاری بابا - خبردار آج کے بعد میرے بچوں کو کسی کام سے
روکا - ہمارے کتے کے ڈربے جتنے تمبو میں رہتے ہو اور آداب سکھانے چلے ہو "
میرا
صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا - مگر بابا جی مسکرا رہے تھے -
" بیٹا ! کچھ اور بھی باقی ہے تو کہہ لو
- مگر آج ایک کام ضرور کرنا کہ اپنے میاں سے پوچھنا , جب اسکی میٹرک کی فیس جانا
تھی , اور وہ گھر کے باہر کھڑا رو رہا تھا , اسکے باپ یعنی تمھارے سسر کے پاس اسکی
فیس کے پیسے نہیں تھے - اسے جس گھس پونجیے نے پیسے دئیے تھے , وہ یہی پکوڑے بیچنے
والا ہے - ہم سب کی یہی اوقات ہے بی بی- اپنے شوہر سے یہ پوچھنا کہ
اسکاbaap
کتنا بڑا رئیس تھا - کس جاگیر کا مالک
تھا "
بابا زور سے ہنسا -
" میری نیکی گئی اور تیری اوقات "
"تکبر انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے , یہ
وہ شیطانی عمل ہے , جس کا انجام رسوائی اور ندامت ہوا کرتا ہے - عقلمند ہمیشہ اس
سے بچتا ہے اور بیوقوف اس کو اپنا لیتا ہے "
خاتون پیر پھٹکتی ہوئی چل دی -
" یہ ایک موچی کی بہو ہے - ہم ایک گاؤں
کے رہنے والے ہیں - یہ لڑکا پڑھ لکھ کر کہیں افسر لگ گیا - روز یہاں سے گزرتا ہے میری
طرف دیکھتا بھی نہیں - مجھے جانتا پہچانتا ہے , مگر اجنبی بنا رہتا ہے - مجھے کیا
لینا دینا - آج اسکے بچوں نے ایک غریب بچے کو مارا تو میں نے ڈانٹا ہے - یہ
ہے ساری کہانی "
میں بھی ہنسنے لگا اور بابا بھی -
" میری اوقات پوچھ رہی ہے - اپنی نہیں
جانتی تھی "
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment