Wednesday, 4 January 2017

موچی کی بہو



موچی کی بہو
ہم پتھر کے زمانے میں نہیں رہتے - دنیا کے  ساتھ چلنا ضروری ہے - یہ تم گھس پونجیوں کے فلسفے ہیں - اسی لئے ساری زندگی پکوڑے بناتے رہے ہو - نہ ڈھنگ کا کھایا نہ پہنا - کسی ٹاٹ والے اسکول میں پڑھ لیا اور بس - یہ اوقات ہے تمھاری بابا - خبردار آج کے بعد میرے بچوں کو کسی کام سے روکا - ہمارے کتے کے ڈربے جتنے تمبو میں رہتے ہو اور آداب سکھانے چلے ہو "
 میرا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا - مگر بابا جی مسکرا رہے تھے -
" بیٹا ! کچھ اور بھی باقی ہے تو کہہ لو - مگر آج ایک کام ضرور کرنا کہ اپنے میاں سے پوچھنا , جب اسکی میٹرک کی فیس جانا تھی , اور وہ گھر کے باہر کھڑا رو رہا تھا , اسکے باپ یعنی تمھارے سسر کے پاس اسکی فیس کے پیسے نہیں تھے - اسے جس گھس پونجیے نے پیسے دئیے تھے , وہ یہی پکوڑے بیچنے والا ہے - ہم  سب کی یہی اوقات ہے بی بی- اپنے شوہر سے   یہ پوچھنا کہ  اسکاbaap  کتنا  بڑا رئیس تھا  - کس  جاگیر  کا  مالک  تھا "
بابا زور سے ہنسا -
" میری نیکی گئی اور تیری اوقات "
"تکبر انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے , یہ وہ شیطانی عمل ہے , جس کا انجام رسوائی اور ندامت ہوا کرتا ہے - عقلمند ہمیشہ اس سے بچتا ہے اور بیوقوف اس کو اپنا لیتا ہے "
خاتون پیر پھٹکتی ہوئی چل دی -
" یہ ایک موچی کی بہو ہے - ہم ایک گاؤں کے رہنے والے ہیں - یہ لڑکا پڑھ لکھ کر کہیں افسر لگ گیا - روز یہاں سے گزرتا ہے میری طرف دیکھتا بھی نہیں - مجھے جانتا پہچانتا ہے , مگر اجنبی بنا رہتا ہے - مجھے کیا لینا دینا - آج اسکے بچوں نے ایک غریب بچے کو مارا تو میں  نے ڈانٹا ہے - یہ ہے ساری کہانی "
میں بھی ہنسنے لگا اور بابا بھی -
" میری اوقات پوچھ رہی ہے - اپنی نہیں جانتی تھی "
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment