انقلاب
ہم انقلاب کا سوچ رہے ہیں اور ذہن میں یہ
تصور ہے کہ راتوں رات کوئی بہادر اٹھے گا اور قوم کی تمام برائیاں ختم کر ڈالے گا
- کرپٹ لوگوں کو تہس نہس کر کے رکھ دے گا - دہشت , بد امنی , معاشی بد حالی , ظلم
اور زیادتی پلک جھپکتے درست ہونے لگیں گی - ہمارے سامنے ایسے چمتکار کی کئی مثالیں
ہیں - دوست کہتے ہیں , دیکھو چین ایک افیمیوں کا وطن تھا , ماؤزے تنگ نے انقلاب لا
کر کیسی تبدیلی کی , فرانس میں بھوک و افلاس تھا انقلاب کے بعد کتنی ترقی ہوئی ,
جنوبی افریقہ میں دیکھو ایک آدمی نے کیسے قوم کو سرخرو کر دیا - بس ایسا ہی انقلاب
ہمارے وطن میں آ جاے تو پھر بات بنتی ہے -
ہم تجزیہ کرتے وقت ایک فرد کو انقلاب کا
کریڈٹ دیتے ہیں - حالانکہ ہر انقلاب کے پیچھے ایک متحرک گروہ ہوتا ہے , جو کسی ایک
سوچ , ایک نظریہ اور ایک مشن کیلیے تن و جان سے کوشش میں لگے ہوتے ہیں - یہ وہ سوچ
ہے جس کا ہم میں دور دور تک وجود نہیں - اور انقلاب انقلاب کی رٹ لگاتے رہتے ہیں -
جب تک فکری طور پر ہم وہ گروہ تیار نہیں کر لیتے , جو نظریاتی طور پر موجودہ نظام
کو بدلنے پر کمر باندھ لے , تب تک یہ خواب ہی رہے گا - جب ایسا گروہ متحرک ہو جاتا
تو انہی میں سے کوئی قیادت ابھر آتی ہے - اور پھر یہ انقلاب کا سبب بنتا ہے - ہم
اگر اپنی اپنی جگہ پر اپنے اپنے حلقہ احباب میں دوستوں , عزیزوں اور ہم خیال لوگوں
کو جمع کرنا شروع کر دیں , تو نا ممکن بات بھی ممکن لگنا شروع ہو جاے گی - موجودہ
نظام , پارٹیوں اور لیڈروں کی کسی بھی طرح کی حمایت سے الگ ہو جایں تو یہ انقلاب
کی پہلی اینٹ ہو گی , یہ اینٹیں جوڑتے جائیں , دیوار بن جاۓگی - ہمیں اپنے
اپنے حصے کا کام کرنا ہو گا - دیوار کے لئے اینٹیں اکٹھا کرنا ہوں گی -
مجھے بھی آپ کو بھی -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment