Tuesday, 3 January 2017

انقلاب



انقلاب
ہم انقلاب کا سوچ رہے ہیں اور ذہن میں یہ تصور ہے کہ راتوں رات کوئی بہادر اٹھے گا اور قوم کی تمام برائیاں ختم کر ڈالے گا - کرپٹ لوگوں کو تہس نہس کر کے رکھ دے گا - دہشت , بد امنی , معاشی بد حالی , ظلم اور زیادتی پلک جھپکتے درست ہونے لگیں گی - ہمارے سامنے ایسے چمتکار کی کئی مثالیں ہیں - دوست کہتے ہیں , دیکھو چین ایک افیمیوں کا وطن تھا , ماؤزے تنگ نے انقلاب لا کر کیسی تبدیلی کی , فرانس میں بھوک و افلاس تھا انقلاب کے بعد کتنی ترقی ہوئی , جنوبی افریقہ میں دیکھو ایک آدمی نے کیسے قوم کو سرخرو کر دیا - بس ایسا ہی انقلاب ہمارے وطن میں آ جاے تو پھر بات بنتی ہے -
ہم تجزیہ کرتے وقت ایک فرد کو انقلاب کا کریڈٹ دیتے ہیں - حالانکہ ہر انقلاب کے پیچھے ایک متحرک گروہ ہوتا ہے , جو کسی ایک سوچ , ایک نظریہ اور ایک مشن کیلیے تن و جان سے کوشش میں لگے ہوتے ہیں - یہ وہ سوچ ہے جس کا ہم میں دور دور تک وجود نہیں - اور انقلاب انقلاب کی رٹ لگاتے رہتے ہیں - جب تک فکری طور پر ہم وہ گروہ تیار نہیں کر لیتے , جو نظریاتی طور پر موجودہ نظام کو بدلنے پر کمر باندھ لے , تب تک یہ خواب ہی رہے گا - جب ایسا گروہ متحرک ہو جاتا تو انہی میں سے کوئی قیادت ابھر آتی ہے - اور پھر یہ انقلاب کا سبب بنتا ہے - ہم اگر اپنی اپنی جگہ پر اپنے اپنے حلقہ احباب میں دوستوں , عزیزوں اور ہم خیال لوگوں کو جمع کرنا شروع کر دیں , تو نا ممکن بات بھی ممکن لگنا شروع ہو جاے گی - موجودہ نظام , پارٹیوں اور لیڈروں کی کسی بھی طرح کی حمایت سے الگ ہو جایں تو یہ انقلاب کی پہلی اینٹ ہو گی , یہ اینٹیں جوڑتے جائیں , دیوار بن جاۓگی - ہمیں  اپنے اپنے حصے کا کام کرنا ہو گا - دیوار کے لئے اینٹیں اکٹھا کرنا ہوں گی -
مجھے بھی آپ کو بھی -
شکریہ
آزاد ہاشمی 

No comments:

Post a Comment