Tuesday, 3 January 2017

کیا حاصل



کیا حاصل
پوری قوم اس الجھن کا شکار ہے کہ موجودہ سیاسی قیادت سے کیسے جان چھڑائی جائے۔۔ اس بارے میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ہمارا پورا سسٹم کرپشن کا شکار ہو چکا ہے ۔ میری ناقص معلومات کے مطابق ہمارے ملک کو کبھی بھی اچھی قیادت نصیب نہیں ہوئی ۔ جو بھی آیا ، مداری ہی آیا ۔ خواہ وردی پہن کے آیا ، یا جمہوریت کی ٹوپی پہن کے ۔ سب نے لوٹا ، کسی نے کم کسی نے زیادہ ۔ مراعات کے نام پہ بیورو کریسی ، اسمبلی ممبران اور دیگر سرکاری اہلکار بھی مسلسل لوٹتے رہے  اور لوٹ رہے ہیں ۔ ایک نواز شریف اور زرداری ہی اس حمام میں ننگے ہوتے تو یقیناً دوسرے لیڈر کبھی خاموش نہ رہتے ۔ مگر یہاں کوئی ایک ایسا نہیں جو ہاتھ اٹھا کر کہے کہ اسکے ہاتھ صاف ہیں ۔  ججوں نے عدل بیچنے کا دھندہ شروع کر رکھا ہے ۔  قوم کی چیخ و پکار سننے والا کوئی نہیں ،  سوشل میڈیا پر اگر کوئی ایک حق کی آواز اٹھاتا ہے تو سیاستدانوں  کے سینکڑوں پالتو اسکی لے دے کر کے رکھ دیتے ہیں ۔  کچھ تھک کر خاموش ہو جاتے ہیں ، کچھ بلیک میل اور کچھ کا پتا صاف کر دیا جاتا ہے ۔
ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا اور یقین کر لینا چاہئے ، کہ موجودہ نظام کے تحت جو بھی آیا ۔ وہ یا تو اسی ڈگر پہ چلے گا ، یا مار دیا جائے گا یا پھر سب چور متحد ہو کر اسے ناکام کر دیں گے ۔ قوم جہاں کھڑی ہے وہاں ہی رہے گی ۔ 
اگر ہم اپنی نسلوں سے مخلص ہیں ، تو ہمیں وہ نظام لانا ہو گا ، جس کا ضامن اللہ ہے اور جو راستہ اللہ کے حبیب نے دکھایا ۔ وہی ہے جو فلاح کی طرف جاتا ہے ۔ یہ بات بیورو کریسی ، عدل کرنے والوں ، محافظوں کو اچھی طرح از بر کر لینی چاہئے کہ اگر انہوں طاقت کے نشے میں ، لالچ یا خوف کے تحت ڈگر نہ بدلی تو انکی نسلیں بھی عوام کہلانے والی ہیں ۔ اور اسی عذاب سے گزریں گی ، جس سے آج کروڑوں ہم وطن گزر رہے ہیں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment