"درس
حسینیت "
ہم نے ہر پیغام حقیقت کو ایک تہوار تصور کر
رکھا ہے ، اور ہر اس تہوار کو اپنی اپنی سوچ کے انداز میں منا کر
سمجھتے ہیں کہ ہم نے فلاح کا راستہ اختیار کر لیا ۔ نہ خود سوچا نہ رہنماؤں نے
درست سمت کی رہنمائی کی ۔ اسلام کی تاریخ میں تمام اہم واقعات الگ الگ فرقوں نے
بانٹ لیے ، اور مسالک کی ایک لمبی فہرست ترتیب دے ڈالی ۔ اسکا کیا فائدہ ہوا اور
کیا نقصان ، تفصیل ممکن بھی نہیں اور ضروری بھی نہیں ۔
کربلا میں جو ہوا ایک درد ناک واقعہ ہے ۔
قربانی کی یہ مثال نہ کبھی پہلے ہوئی نہ قیامت تک دوسری ہو گی ۔ حسین علیہ السلام
کو یہ قربانی کیوں دینا پڑی اور اسکے اسلام پر کیا اثرات مرتب ہوئے ۔
یہ جاننا اصل ضرورت ہے۔
اہل بیت کے اس درد پر دکھ اور غم کا اظہار ،
عقیدت اور محبت کا انداز ہے ، جتنا بھی ہو درست ہے ۔ مگر اس پیغام کو
نظرانداز کرنا ، جو اس عظیم قربانی کا اصل مدعا تھا ۔ کسی بھی رنگ میں حب اہلبیت
نہیں کہلائے گا ۔ یزیدیت کے ہر عمل سے نہ صرف اجتناب کرنا ، بلکہ پوری
قوت سے اسے روکنے کی سعی کرنا ، خواہ اسکی کوئی بھی قیمت چکانی پڑے ، حسینیت کا
درس ہے ۔
خود شراب نوشی ، زنا ، ناجائز ذرائع کی آمدن
، دوسروں کے حقوق غصب کرنا ، اسلام کے احکامات کے منافی زندگی اختیار کرنا ،
جواء کا شوق پورا کرنا ، محض شغل کے طور پر معصوم جانوروں کی جان لینا ، اپنے
اختیارات سے تجاوز کرنا ۔ ان جیسے تمام عیوب کے ساتھ حب اہلبیت کا دعویٰ ،
اہلبیت کی شان اور عظمت سے مذاق ہے ۔
اس عظیم قربانی سے سبق لینا فلاح کا راستہ ہے
، اللہ کی رضا کا حصول ہے اور یقینی نجات کا طریقہ ہے ۔ اپنی اپنی عقیدت کا اظہار
جیسے بھی کریں مگر درس حسینیت کو فراموش نہ کریں ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی
No comments:
Post a Comment