Saturday, 7 January 2017

"درس حسینیت "

"درس حسینیت "
ہم نے ہر پیغام حقیقت کو ایک تہوار تصور کر رکھا ہے  ، اور  ہر اس تہوار کو اپنی اپنی سوچ کے انداز میں منا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے فلاح کا راستہ اختیار کر لیا ۔ نہ خود سوچا نہ رہنماؤں نے درست سمت کی رہنمائی کی ۔ اسلام کی تاریخ میں تمام اہم واقعات الگ الگ فرقوں نے بانٹ لیے ، اور مسالک کی ایک لمبی فہرست ترتیب دے ڈالی ۔ اسکا کیا فائدہ ہوا اور کیا نقصان ، تفصیل ممکن بھی نہیں اور ضروری بھی نہیں ۔
کربلا میں جو ہوا ایک درد ناک واقعہ ہے ۔ قربانی کی یہ مثال نہ کبھی پہلے ہوئی نہ قیامت تک دوسری ہو گی ۔ حسین علیہ السلام کو یہ قربانی کیوں دینا پڑی اور اسکے اسلام پر  کیا اثرات مرتب ہوئے  ۔
یہ جاننا اصل ضرورت ہے۔
اہل بیت کے اس درد پر دکھ اور غم کا اظہار ، عقیدت اور محبت کا انداز ہے ، جتنا بھی ہو درست ہے ۔  مگر اس پیغام کو نظرانداز کرنا ، جو اس عظیم قربانی کا اصل مدعا تھا ۔ کسی بھی رنگ میں حب اہلبیت نہیں کہلائے گا ۔  یزیدیت کے ہر عمل سے نہ صرف اجتناب کرنا ،  بلکہ پوری قوت سے اسے روکنے کی سعی کرنا ، خواہ اسکی کوئی بھی قیمت چکانی پڑے ، حسینیت کا درس ہے ۔
خود شراب نوشی ، زنا ، ناجائز ذرائع کی آمدن ، دوسروں کے حقوق غصب کرنا ، اسلام کے احکامات کے منافی زندگی اختیار کرنا  ، جواء کا شوق پورا کرنا ، محض شغل کے طور پر معصوم جانوروں کی جان لینا ، اپنے اختیارات سے تجاوز کرنا ۔ ان جیسے تمام عیوب کے ساتھ حب اہلبیت کا دعویٰ  ، اہلبیت کی شان اور عظمت سے مذاق ہے ۔
اس عظیم قربانی سے سبق لینا فلاح کا راستہ ہے ، اللہ کی رضا کا حصول ہے اور یقینی نجات کا طریقہ ہے ۔ اپنی اپنی عقیدت کا اظہار جیسے بھی کریں مگر درس حسینیت کو فراموش نہ کریں ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی 
 

No comments:

Post a Comment