بابا جی
"
یہ پیسہ بہت بری چیز ہے - ہوتا ہے تو الله بھول جاتا ہے , الله کے بندے یاد نہیں
رہتے , قریبی رشتے بھی اجنبی لگتے ہیں - اور جب چلا جاتا ہے تو یہ حال کر دیتا ہے
"
بابا جی نے سامنے بیٹھے بھکاری کی طرف اشارہ
کرتے ہوے بات ختم کی -
" کیا آپ اس بھکاری کو جانتے ہیں - یہ
تو کوئی پاگل لگتا ہے "
میں نے سوال کیا -
" ہاں جانتا ہوں , یہ چند سال پہلے ایک
بڑا پولیس آفیسر تھا - پیسہ اسکی منزل تھی , رحم نام کی کوئی چیز اسکے دل میں نہیں
تھی - مجھے وہ وقت یاد ہے جب اس نے ایک ماں کے سامنے اسکا بیٹا گولیوں سے بھون
ڈالا تھا , وہ ہاتھ جوڑتی رہی , اسکے پاؤں چھوتی رہی - ایک بے بس ماں بیٹے کی لاش
پر تڑپتی دیکھتے تو سینہ پھٹ جاتا "
بابا جی کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں , لہجہ ٹوٹ گیا
اور ایک کٹے ہوۓ درخت کی طرح زمین پر بیٹھ گیا -
" وہ روتی رہی پھر یکدم خاموش ہو کر
آسمان کی طرف دیکھنے لگی - چند دن اسی جگہ پہ بیٹھی رہی , پھر پتہ نہیں کہاں چلی
گئی - یہ جس جگہ بیٹھا ہے , اسی جگہ لاش تھی اس بے چارے کی "
" اسے کیا ہوا "
میں نے پوچھا
" یہ اپنی مستی موج میں گم رہا ,
اپنے بچوں کے ساتھ کسی جھیل پہ پکنک منانے گیا تھا - اسکا پورا خاندان جھیل کھا
گئی , کوئی ایک لاش نہیں ملی - اب یہ اکیلا ہے - اسکا کوئی رشتہ دار اسے پوچھنے
بھی نہیں آتا - کھانے کے لئے روٹی مانگتا ہے , پیسے کو ہاتھ نہیں لگاتا "
" الله کی پکڑ بھی بہت سخت ہے , اگر یہ
پاگل ہو جاتا تو اسکا درد کم ہو جاتا , یہ پورے ہوش و حواس میں ہے , صرف ظاہر کرتا
ہے کہ اسے کچھ یاد نہیں - اس جگہ پہ آ کر محض اسلیے بیٹھتا ہے کہ شاید اس مظلوم کی
ماں کبھی آ جاے اور یہ معافی مانگ سکے - "
بابا جی پھر رونے لگے -
" مائیں بیٹوں کی لاش دیکھ لیں تو کب جی
سکتی ہیں - بیچاری مر گئی ہو گی - مر گئی ہو گی بیچاری "
بابا جی کے ساتھ میرے ضبط کا بندھن بھی ٹوٹ
گیا - میرا جی چاہا کہ اس ظالم کا گلہ گھونٹ دوں - مگر جو سزا الله نے منتخب
کی تھی وہ میری سزا سے کہیں زیادہ اذیت ناک تھی - وہ تو خود مرنا چاہتا ہو گا ,
مگر موت تو اسکے اختیار میں نہیں تھی -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment