دوسری بیٹی
"
انکل پلیز میری بات سنیں "
تپتی دھوپ میں معصوم سی بچی ہر راہ چلتے شخص
کو ایک ہی فقرہ بول رہی تھی - میرے سامنے بیسیوں لوگ گزرے مگر کسی ایک کے پاس چند
سیکنڈ بھی نہیں تھے کہ اسکی بات سننے کو رکتا - شکل و شباہت سے وہ ایک سلجھی ہوئی
بچی لگ رہی تھی اور ہر کوئی اسے پیشہ ور بھکاری سمجھ کر گزر رہا تھا - میں خود بھی
تذبذب میں تھا کہ اگر یہ بچی بھکاری ہے تو بھی ہم سب ذمہ دار ہیں , اگر بھکاری
نہیں تو اسکی کیا مجبوری ہے - میں ابھی فیصلہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ ایک دیہاتی
لباس میں غریب سا شخص بچی کی طرف بڑھا , میں بھی قریب ہو گیا -
" کیا بات ہے بیٹا "
اس فرشتے نے بچی کے سر پہ ہاتھ رکھا اور بچی
سے سوال کیا - معصوم سی بچی کے دل میں رکا ہوا طوفان آنکھوں سے بہنے لگا - وہ کچھ
کہے بغیر سسکیوں سے رونے لگی - اس انسان کی آنکھیں بھی بھیگ گئیں - جب خوب رو لیا
تو بچی بولی -
" میرے ابا کو کچھ لوگوں نے مار دیا اور
میری ماں وہ سامنے ہسپتال میں مرنے والی ہے - ڈاکٹر انکل کہہ رہے ہیں دوائی چاہیے
, میرے پاس پیسے نہیں - ماں مر گئی تو میں کہاں جاؤں گی "
" نہیں مرے گی تمھاری ماں " دیہاتی
نے بچی کو سینے سے لگاتے ہوۓ کہا - اسکی آواز میں درد تھا - انسانیت کا درد - بچی
کو لیکر وہ ہسپتال کی طرف چل پڑا - میں بھی ساتھ ہو لیا - ہم ڈاکٹر کے پاس
پہنچ گئے - دیہاتی نے اپنے پلو سے ایک پوٹلی نکالی اور ڈاکٹر کی میز پر رکھ دی -
" ڈاکٹر بابو ! اسوقت میرے پاس یہی
ہے , اگلے ہفتے میری بیٹی کی شادی ہے , زمین بیچی تھی کہ اسے زیور دونگا - بچپن سے
اسے زیور پہننے کا شوق تھا - میں غریب آدمی ہوں , میری ایک ہی بیٹی تھی آج دو
ہوگئیں , میری دوسری کو بچا لو , میں پہلی کو ایک بار پھر جھوٹا زیور پہنا دونگا
"
بابا رو رہا تھا -
" کل پھر آؤنگا "
یہ کہہ کر معصوم بچی کے ننھے سے گال پہ بوسہ
دیا -
" ماں کو بولنا , نانا آیا تھا , کل پھر
اےگا- بیٹیوں سے ملنے خالی ہاتھ نہیں جانا چاہیے
"
میں حیران بھی تھا اور خوش بھی - کہ زندگی
میں فرشتوں کا ذکر سنا تھا آج جاگتی آنکھوں سے فرشتہ دیکھ بھی لیا -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment