" بابا جی ! اگر آپ سیاست میں ہوتے تو بہت کامیاب سیاستدان ہوتے "
یہ کوئی دل لگی نہیں تھی , حقیقت تھی , وہ پکوڑے بنانے والا
ایک غریب آدمی ہے , مگر قدرت نے جو سوچ اور فہم اسے عطا کر رکھا ہے , وہ
شاید ہی کسی سیاستدان میں ہو - آپ کسی بھی موضوع پہ بات کریں , بابا جی کی
سوچ سے ضرور متاثر ہوں گے -
" نہیں بیٹا ! یہ سیاست شریف لوگوں کا کام نہیں - اس میں بہت
جھنجھٹ ہیں , مکاری اور دغا بازی اسکے بنیادی اصول ہیں - میرے جیسے لوگ اس
میدان میں نہیں آ سکتے - سچ بولو گے کوئی نہیں سنے گا , کیونکہ ہمیں جھوٹ
میں زیادہ مزہ آتا ہے - سچ پرانے وقتوں کی بات لگتا ہے - الله کا حکم ہے ,
جو وعدہ کرو پورا کرو , عہد شکنی نہیں کرو - یہ دونوں اصول سیاست میں نہیں
چلتے - گویا الله کی حکم عدولی سے سیاست کا آغاز ہوتا ہے - یه کوئی خدمت
نہیں , پیشہ ہے پیشہ - دولت بنانے کا بہترین ہنر ہے - کوئی لیڈر بھی خلوص
سے سیاست میں نہیں آتا - کچھ کو دولت کی ہوس ہے , کچھ کو شہرت کی - کوئی
اقتدار کا بھوکا ہے کوئی انتقام میں پاگل - کوئی ملک فروش ہے کوئی ایمان کا
سوداگر "
بات تو ٹھیک تھی -
" بابا جی ! پاکستان بھی تو سیاست سے وجود میں آیا "
میری یہ دلیل تو بابا جی پر بجلی کی طرح گری -
" کیا کہا - یہی خرابی ہے ہماری تعلیم کی . پاکستان سیاست سے
نہیں ایمان سے بنا - کلمے کے نام پہ بنا - اسلام کے نظام کے نعرے پہ بنا-
ہم نے وہ تڑپ دیکھی , وہ جذبہ دیکھا , وہ سماں دیکھا جب لوگ کہتے تھے ,
پاکستان کا مطلب کیا , تو آسمان اور زمین بولتی تھی
" لا الہ الا الله "
ہمارے دلوں سے یہ تڑپ ان غدار اور وطن فروش سیاستدانوں نے چھین لی - ان لٹیروں نے چھین لیا سب-
اقبال کا تصور باقی نہیں رہنے دیا اور نہ قائد کی جان فشانی کی قدر باقی ہے -
کبھی غور کیا قوم نے کہ آج زیادہ تر سیاسی لیڈر ان کی اولاد ہیں جو نظریہ پاکستان کے مخالف تھے - کیا غلط کہہ رہا ہوں "
بابا جی کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی -
" ارے اگر سیکولر ملک چاہیے تھا تو پھر اکٹھے ہی رہتے - لاکھوں جانیں قربان کیوں کیں "
" جنہوں نے قربانیاں دیں وہ میری طرح مزدوری کر رہے ہیں , اور جو انگریز کے چمچے تھے انکی اولادیں حکمران ہیں -
کبھی گنتی کی تم لوگوں نے کہ کتنے بہروپئے آے اور چلے گئے , نہ ملک کا نظام بدلا نہ معیشت -
بد قسمتی یہ ہے کہ سارے ملا بھی مفادات کی کشتی پہ سوار ہیں "
بابا جی جو بھی کہتے ہیں , باتیں تو دل کو لگتی ہیں , مگر پکوڑے بیچنے والے کی کون سنے گا - کس کو سمجھ آئیگی یہ کتھا -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment