Friday, 6 January 2017

" شہید کرنے والے ہاتھ



" شہید کرنے والے ہاتھ "
یہ سمجھنا کہ شہادت کا مطلب کیا ہے اور شہید کا اللہ کے ہاں درجہ کیا ہے ۔ اس پر کوئی دوسری رائے نہیں ۔ 
اللہ کی راہ میں ، اللہ کے احکامات کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے ، احکامات ربی پر کسی بھی یلغار کو روکنے کی خاطر جان دے دینا شہادت ہے ۔ 
شہید درجات کے اعتبار سے زہد و تقویٰ کے حامل کسی بھی فرد سے بلند ہے ۔
جتنا بلند درجہ شہید کے لئے ہے اتنا ہی بڑا مجرم  شہید کرنے والا ہے ۔ 
اجتہاد ، فلسفہ ، منطق اور تمام دیگر علوم اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے ۔ کہ شہادت کا درجہ دیگر تمام عبادات سے بلند ہے ۔ 
شہید کرنے والے ہاتھ بیک وقت کئی ناقابل معافی جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ اللّہ کے دین سے مخاصمت ، اللہ کے حکم سے سر کشی ،  حقوق العباد سے انحراف وہ بنیادی جرم ہیں ، جن کا ارتکاب ۔کرتے ہوئے کسی حق گو کے  ایمانی جذبہ کو روکنے کی خاطر جان سے مار دیا جاتا یے  ۔
یاد رکھنا ہو گا کہ اللہ اپنے حقوق سے انحراف کو معاف کرتا ہے مگر حقوق العباد کو معاف کرنے کا اختیار متاثرہ بندوں کے ھاتھ میں ہے ۔  اللہ نہ تو اپنے قانون تبدیل کرتا ہے اور نہ اس میں ترمیم ہوتی ہے ۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کربلا کے میدان میں بہتر جانیں لینے والے کو ، احد میں حضرت حمزہ رض کی جان لینے کے بعد جسم کو مسخ کرنے والے کی بریت ہو گئی ہو ۔
ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہر اس دلیل اور تحریر کو صحیح نہ سمجھا جائے ، جو قانون قدرت ، احکامات ربی اور قرآن کی تعلیمات سے متضاد ہو ۔ خواہ وہ ثبوت یا تحریر کسی جید عالم ، کسی امام ، کسی مجدد ، محدث یا محقق سے منسوب ہی کیوں نہ ہو ۔  یہی وہ راستہ ہے جس سے حق و سچائی کی پہچان ممکن ہے ۔  دیگر تمام دلائل گمراہی کے سوا کچھ نہیں ۔ 
شکریہ
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment