" شہید کرنے والے ہاتھ "
یہ سمجھنا کہ شہادت کا مطلب کیا ہے اور شہید کا اللہ کے ہاں درجہ کیا ہے ۔ اس پر کوئی دوسری رائے نہیں ۔
اللہ کی راہ میں ، اللہ کے احکامات کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے ، احکامات ربی پر کسی بھی یلغار کو روکنے کی خاطر جان دے دینا شہادت ہے ۔
شہید درجات کے اعتبار سے زہد و تقویٰ کے حامل کسی بھی فرد سے بلند ہے ۔
جتنا بلند درجہ شہید کے لئے ہے اتنا ہی بڑا مجرم شہید کرنے والا ہے ۔
اجتہاد ، فلسفہ ، منطق اور تمام دیگر علوم اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے ۔ کہ شہادت کا درجہ دیگر تمام عبادات سے بلند ہے ۔
شہید کرنے والے ہاتھ بیک وقت کئی ناقابل معافی جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ اللّہ کے دین سے مخاصمت ، اللہ کے حکم سے سر کشی ، حقوق العباد سے انحراف وہ بنیادی جرم ہیں ، جن کا ارتکاب ۔کرتے ہوئے کسی حق گو کے ایمانی جذبہ کو روکنے کی خاطر جان سے مار دیا جاتا یے ۔
یاد رکھنا ہو گا کہ اللہ اپنے حقوق سے انحراف کو معاف کرتا ہے مگر حقوق العباد کو معاف کرنے کا اختیار متاثرہ بندوں کے ھاتھ میں ہے ۔ اللہ نہ تو اپنے قانون تبدیل کرتا ہے اور نہ اس میں ترمیم ہوتی ہے ۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کربلا کے میدان میں بہتر جانیں لینے والے کو ، احد میں حضرت حمزہ رض کی جان لینے کے بعد جسم کو مسخ کرنے والے کی بریت ہو گئی ہو ۔
ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہر اس دلیل اور تحریر کو صحیح نہ سمجھا جائے ، جو قانون قدرت ، احکامات ربی اور قرآن کی تعلیمات سے متضاد ہو ۔ خواہ وہ ثبوت یا تحریر کسی جید عالم ، کسی امام ، کسی مجدد ، محدث یا محقق سے منسوب ہی کیوں نہ ہو ۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے حق و سچائی کی پہچان ممکن ہے ۔ دیگر تمام دلائل گمراہی کے سوا کچھ نہیں ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی
یہ سمجھنا کہ شہادت کا مطلب کیا ہے اور شہید کا اللہ کے ہاں درجہ کیا ہے ۔ اس پر کوئی دوسری رائے نہیں ۔
اللہ کی راہ میں ، اللہ کے احکامات کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے ، احکامات ربی پر کسی بھی یلغار کو روکنے کی خاطر جان دے دینا شہادت ہے ۔
شہید درجات کے اعتبار سے زہد و تقویٰ کے حامل کسی بھی فرد سے بلند ہے ۔
جتنا بلند درجہ شہید کے لئے ہے اتنا ہی بڑا مجرم شہید کرنے والا ہے ۔
اجتہاد ، فلسفہ ، منطق اور تمام دیگر علوم اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے ۔ کہ شہادت کا درجہ دیگر تمام عبادات سے بلند ہے ۔
شہید کرنے والے ہاتھ بیک وقت کئی ناقابل معافی جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ اللّہ کے دین سے مخاصمت ، اللہ کے حکم سے سر کشی ، حقوق العباد سے انحراف وہ بنیادی جرم ہیں ، جن کا ارتکاب ۔کرتے ہوئے کسی حق گو کے ایمانی جذبہ کو روکنے کی خاطر جان سے مار دیا جاتا یے ۔
یاد رکھنا ہو گا کہ اللہ اپنے حقوق سے انحراف کو معاف کرتا ہے مگر حقوق العباد کو معاف کرنے کا اختیار متاثرہ بندوں کے ھاتھ میں ہے ۔ اللہ نہ تو اپنے قانون تبدیل کرتا ہے اور نہ اس میں ترمیم ہوتی ہے ۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کربلا کے میدان میں بہتر جانیں لینے والے کو ، احد میں حضرت حمزہ رض کی جان لینے کے بعد جسم کو مسخ کرنے والے کی بریت ہو گئی ہو ۔
ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہر اس دلیل اور تحریر کو صحیح نہ سمجھا جائے ، جو قانون قدرت ، احکامات ربی اور قرآن کی تعلیمات سے متضاد ہو ۔ خواہ وہ ثبوت یا تحریر کسی جید عالم ، کسی امام ، کسی مجدد ، محدث یا محقق سے منسوب ہی کیوں نہ ہو ۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے حق و سچائی کی پہچان ممکن ہے ۔ دیگر تمام دلائل گمراہی کے سوا کچھ نہیں ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی
No comments:
Post a Comment