جاؤ بھائی
سکا چہرہ اداسی کی تصویر بنا ہوا تھا - آنکھوں کی سوجن بتا رہی تھی کہ
وہ بہت رویا ہو گا - مجھے دیکھتے ہی اس نے چہرہ دوسری طرف موڑ لیا , یہ اسکی ناراضگی
کی شدت تھی - میں نے بوجھل دل سے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا -
" جاؤ بھائی ! کیوں آگ میں ہاتھ ڈالتے ہو - ہم کافر بنا دیے گئے ہیں - ہمارے ساتھ میل ملاپ رکھو گے , ایک دن تم بھی --"
بات مکمل کرنے سے پہلے اس نے پھر رونا شروع کر دیا -
" ٹھیک ہے , جو بھی کہو , جو بھی سوچو - تم لوگوں کو اختیار ہے - تم دوسروں سے جینے کا حق تو نہ چھینو - دوسروں سے انکا رب تو نہ چھینو , دوسروں سے انکے ایمان پہ مورچہ بندی تو نہ کرو - تمہارا دستور , دستور ساز تمہارے - ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں , جو چاہو لکھو , جو چاہو لاگو کرو - الله کے دستور پہ تو الله کی ملکیت ہے - اسے تو اپنے ہاتھوں میں مت لو - آخر روز قیامت کو حساب دینا ہے - چلو یہ بھی کر لو -
مگر ہمارے گھروں کو رسوائی کا سامان تو نہ بناؤ - ہم سے سماجی رشتے توڑ لو , مگر ہمیں جسمانی اذیت تو نہ دو - ارے ہماری بات مت سنو , الله کے حبیب کا اسوہ دیکھ لو - وہ سلوک تو کرو ہم سے , جو الله کے رسول کا عمل اور حکم ہے "
اسکی بات میں وزن تھا - میرے پاس ندامت تھی -
" جانتے ہو , آج صبح کیا ہوا - کچھ لوگوں نے میرے بھائی کو راستے نہیں پکڑ کر اتنا مارا ہے کہ وہ زندگی اور موت کے درمیان لٹکا ہوا ہے - میری ماں اس وقت سے بے ہوش ہے - گھر میں سوگ کی کفیت ہے , ہمارے محلے سے ایک بھی فرد رسمی تسلی کے لئے نہیں آیا - میرا باپ کہہ رہا ہے کہ ہمیں یہ شہر چھوڑ دینا چاہیے - یہاں کے لوگ بیگانے ہو گئے ہیں "
میں سوچ رہا تھا , کہ یہ سب تو مذھب کی تعلیم نہیں تھی - کسی بھی انسان کی دل آزاری تو مذھب میں جائز نہیں - یہ صدیوں کے کے رشتے , بندھن تو اتنے کمزور نہیں ہوا کرتے تھے - تشدد تو اسلام کا پیغام نہیں - سیاسی تحریکیں تو ایمان کے فیصلے نہیں کیا کرتیں - ایمان کو کریدنے یا چھین لینے کا اختیار تو کسی کے پاس نہیں - پھر یہ تشدد کی لہر کیوں -
" جاؤ دوست ! کسی نے دیکھ لیا تو کافر بن جاؤ گے - تمہارا شکریہ "
مجھ سے ہاتھ ملایا اور اپنے گھر جی طرف بڑھ گیا -
آزاد ہاشمی
" جاؤ بھائی ! کیوں آگ میں ہاتھ ڈالتے ہو - ہم کافر بنا دیے گئے ہیں - ہمارے ساتھ میل ملاپ رکھو گے , ایک دن تم بھی --"
بات مکمل کرنے سے پہلے اس نے پھر رونا شروع کر دیا -
" ٹھیک ہے , جو بھی کہو , جو بھی سوچو - تم لوگوں کو اختیار ہے - تم دوسروں سے جینے کا حق تو نہ چھینو - دوسروں سے انکا رب تو نہ چھینو , دوسروں سے انکے ایمان پہ مورچہ بندی تو نہ کرو - تمہارا دستور , دستور ساز تمہارے - ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں , جو چاہو لکھو , جو چاہو لاگو کرو - الله کے دستور پہ تو الله کی ملکیت ہے - اسے تو اپنے ہاتھوں میں مت لو - آخر روز قیامت کو حساب دینا ہے - چلو یہ بھی کر لو -
مگر ہمارے گھروں کو رسوائی کا سامان تو نہ بناؤ - ہم سے سماجی رشتے توڑ لو , مگر ہمیں جسمانی اذیت تو نہ دو - ارے ہماری بات مت سنو , الله کے حبیب کا اسوہ دیکھ لو - وہ سلوک تو کرو ہم سے , جو الله کے رسول کا عمل اور حکم ہے "
اسکی بات میں وزن تھا - میرے پاس ندامت تھی -
" جانتے ہو , آج صبح کیا ہوا - کچھ لوگوں نے میرے بھائی کو راستے نہیں پکڑ کر اتنا مارا ہے کہ وہ زندگی اور موت کے درمیان لٹکا ہوا ہے - میری ماں اس وقت سے بے ہوش ہے - گھر میں سوگ کی کفیت ہے , ہمارے محلے سے ایک بھی فرد رسمی تسلی کے لئے نہیں آیا - میرا باپ کہہ رہا ہے کہ ہمیں یہ شہر چھوڑ دینا چاہیے - یہاں کے لوگ بیگانے ہو گئے ہیں "
میں سوچ رہا تھا , کہ یہ سب تو مذھب کی تعلیم نہیں تھی - کسی بھی انسان کی دل آزاری تو مذھب میں جائز نہیں - یہ صدیوں کے کے رشتے , بندھن تو اتنے کمزور نہیں ہوا کرتے تھے - تشدد تو اسلام کا پیغام نہیں - سیاسی تحریکیں تو ایمان کے فیصلے نہیں کیا کرتیں - ایمان کو کریدنے یا چھین لینے کا اختیار تو کسی کے پاس نہیں - پھر یہ تشدد کی لہر کیوں -
" جاؤ دوست ! کسی نے دیکھ لیا تو کافر بن جاؤ گے - تمہارا شکریہ "
مجھ سے ہاتھ ملایا اور اپنے گھر جی طرف بڑھ گیا -
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment