" انتہا ہو گئی "
جمہوریت کے ایک پروانے اپنی معلومات کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ کہ اسلام کے ابتدائی دور میں تیسرے خلیفہ اور چوتھے خلیفہ کے مابین باقاعدہ ووٹنگ ہوئی تھی ۔ تعجب کی بات یہ نہیں کہ انہوں نے یہ تاریخی حوالہ کہاں سے اخذ کیا ۔ تعجب اور افسوس اس پر ہے کہ موصوف ایسی مذہبی جماعت سے منسلک ہیں ، جن کا منشور جمہوریت کی سیڑہی سے اسلامی نظام تک پہنچنا ہے ۔ موصوف انتہائی تعلیم یافتہ ہیں اور ایسے لوگوں کی رائے بہت اثر انگیز ہوتی ہے ۔ میں نے چند سوال کرنے کی جسارت کی کہ چلو مان لیتے ہیں ، جس الیکشن کی آپ بات کر رہے ہیں ، وہ مستند ہے ۔ اتنا بتا دیں کہ دونوں امیدواروں نے خود کو اقتدار کی کرسی کے لیے پیش کیا ۔ یا دیگر صحابہ نے انکے نام پیش کئے ۔ الیکشن کا اہتمام کرنے والی ہستی کا بھی کوئی نام ہو گا ۔ اور یقیناً ووٹ کا حق بھی پوری امت مسلمہ نے استعمال کیا ہو گا ۔ وہ ووٹنگ کیسے انتظام ہوئی ۔
چلیں اگر آپکی مستند تاریخ اس پر خاموش ہے ، تو کیا یہ کار خیر بعد میں کب تک جاری رہا اور اگر نہیں رہا تو کیوں ۔
میں اپنی چونسٹھ سالہ زندگی میں ، مطالعہ میں پوری طرح سرگرم رہنے کے باوجود کسی تاریخ میں نہیں پڑھ سکا کہ اسلامی ادوار میں کبھی بھی جمہوریت رہی اور کبھی بھی عام مسلمان سے ارباب اقتدار کے انتخاب پر رائے لی گئی ، ۔ماسوائے صاحبان کردار شوریٰ کے چند ممبران کے۔ اسلام تو ایک گواہی پہ گواہ کے کردار کی پوری تحقیق کرتا ہے ، گناہ کبیرہ کے مرتکب کسی شخص کو رائے کا حق نہیں دیتا ۔ قران کے واضع احکامات پر کسی دوسری رائے کو کفر کہا جاتا ہے ۔ پھر یہ مقننہ ، اسمبلیاں ، چور چکاروں کا اقتدار میں لے آنا کیسے اسلامی ہو گیا ۔
کوئی اللہ کا بندہ میری تصحیح فرمائے کہ موصوف درست فرما رہے ہیں یا علم کے زعم نے عقل سلیم سے پیدل کر دیا ہے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
جمہوریت کے ایک پروانے اپنی معلومات کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ کہ اسلام کے ابتدائی دور میں تیسرے خلیفہ اور چوتھے خلیفہ کے مابین باقاعدہ ووٹنگ ہوئی تھی ۔ تعجب کی بات یہ نہیں کہ انہوں نے یہ تاریخی حوالہ کہاں سے اخذ کیا ۔ تعجب اور افسوس اس پر ہے کہ موصوف ایسی مذہبی جماعت سے منسلک ہیں ، جن کا منشور جمہوریت کی سیڑہی سے اسلامی نظام تک پہنچنا ہے ۔ موصوف انتہائی تعلیم یافتہ ہیں اور ایسے لوگوں کی رائے بہت اثر انگیز ہوتی ہے ۔ میں نے چند سوال کرنے کی جسارت کی کہ چلو مان لیتے ہیں ، جس الیکشن کی آپ بات کر رہے ہیں ، وہ مستند ہے ۔ اتنا بتا دیں کہ دونوں امیدواروں نے خود کو اقتدار کی کرسی کے لیے پیش کیا ۔ یا دیگر صحابہ نے انکے نام پیش کئے ۔ الیکشن کا اہتمام کرنے والی ہستی کا بھی کوئی نام ہو گا ۔ اور یقیناً ووٹ کا حق بھی پوری امت مسلمہ نے استعمال کیا ہو گا ۔ وہ ووٹنگ کیسے انتظام ہوئی ۔
چلیں اگر آپکی مستند تاریخ اس پر خاموش ہے ، تو کیا یہ کار خیر بعد میں کب تک جاری رہا اور اگر نہیں رہا تو کیوں ۔
میں اپنی چونسٹھ سالہ زندگی میں ، مطالعہ میں پوری طرح سرگرم رہنے کے باوجود کسی تاریخ میں نہیں پڑھ سکا کہ اسلامی ادوار میں کبھی بھی جمہوریت رہی اور کبھی بھی عام مسلمان سے ارباب اقتدار کے انتخاب پر رائے لی گئی ، ۔ماسوائے صاحبان کردار شوریٰ کے چند ممبران کے۔ اسلام تو ایک گواہی پہ گواہ کے کردار کی پوری تحقیق کرتا ہے ، گناہ کبیرہ کے مرتکب کسی شخص کو رائے کا حق نہیں دیتا ۔ قران کے واضع احکامات پر کسی دوسری رائے کو کفر کہا جاتا ہے ۔ پھر یہ مقننہ ، اسمبلیاں ، چور چکاروں کا اقتدار میں لے آنا کیسے اسلامی ہو گیا ۔
کوئی اللہ کا بندہ میری تصحیح فرمائے کہ موصوف درست فرما رہے ہیں یا علم کے زعم نے عقل سلیم سے پیدل کر دیا ہے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment