Wednesday, 28 March 2018

چھیالیس سال پہلے

" چھیالیس سال پہلے "
آج بائیس مارچ ، چھیالیس  سال پہلے  ، اللہ سبحانہ تعالی نے میرے کمزور  کندھوں پر ذمہ داریوں کا پہاڑ لاد دیا ۔ جب میرے والد اس جہان سے اگلے جہان روانہ ہوگئے ۔ یہ وہ دن تھے جو زندگی کے عروج کیطرف بڑھنے کے دن تھے ۔ اس پہاڑ سر صرف بیس روز پہلے  آرمی میڈیکل بورڈ نے میرے کندھوں کے پپس اتار لئے ۔ اس پاداش میں کہ میں نے ملک کیلئے لڑتے ٹانگ زخمی کروا لی ۔ ایماندار افسر کا خاموش جسم ، چارپائی پہ پڑا تھا ۔ میں اور میری عظیم ماں ( اللہ غریق رحمت کرے ) رو بھی نہیں سکے ۔ ایمانداری کا امتحان ہمارے سامنے تھا ۔ گھر میں کچھ نہیں تھا ۔ دو کمروں کا نامکمل گھر ، جس کا باورچی خانہ چھت کے بغیر تھا ۔ محکمہ ٹیلیفون کا اعلی افسر اور یہ سارا اثاثہ دفتر سے آئے ماتحت عملے کیلئے بھی حیران کن تھا ۔ میں گبھرایا ہوا ضرور تھا مگر شرمندہ نہیں تھا ۔ میرے لئے گردن اونچی کرنے کا سبب موجود تھا کہ میں ایماندار باپ کی اولاد ہوں ۔ مجھے یقین تھا کہ یہ عظیم باپ اللہ کے ہاں سرخرو ہے ۔ شاید یہ وہ ساری تسلیاں اور مجبوریاں تھیں ، جن کیوجہ سے آنسو خشک تھے ۔ شاید یہ بھی سبب تھا کہ میری پشت پہ ایک بہادر ماں ابھی موجود تھی ۔ مگر اب جب دونوں نہیں تو پوری زندگی کے آنسو جب بہنے لگتے ہیں تو روکنے کے باوجود روک نہیں پاتا ۔  دعا کرتا ہوں میرے اس عظیم باپ کو اللہ اپنی رحمت کی ٹھنڈی چھاوں نصیب کرے (آمین )
آج کے دن ، کسی خوشی کے دن سے کبھی بھی  محظوظ نہیں ہو سکا ۔ پچھلے چھیالیس سال یہی ہوتا رہا ، آج یہ شدت کچھ زیادہ ہے کہ آج وہ ماں بھی نہیں جو ماں بھی تھی اور باپ بھی ۔ جو میرے چہرے کی مسکراہٹ  کے پیچھے چھپا کرب بھی پڑھ لیتی تھی ۔ میں ہمیشہ اپنے باپ کی دیانت داری پر نازاں رہا ۔ علم کے میدان میں شاید کوئی ایسا شخص ہو گا جو اسوقت انکے ہم پلہ تھا ۔ سادگی اور انکساری کا شاندار امتزاج انکے وجود کا حصہ تھا ۔ اکثر بچے باپ سے ڈر محسوس کرتے ہیں مگر میرے والد بالکل مختلف تھے ۔ ڈانٹ ڈپٹ انکی لغت ہی میں نہیں تھی ۔ ہماری غلطیوں کی سرزنش مذاق میں کر دینا معمول تھا ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment