" بیچارہ کیپٹن صفدر "
معلوم نہیں کیوں ، میں جب بھی کیپٹن صفدر کی تصویر دیکھتا ہوں ۔ وہ پریڈ یاد آ جاتی ہے ، جو ہمارا ایک انسٹرکٹر کرواتے ہوئے ، کہا کرتا تھا۔
" اتنے زور سے پاوں کی ایڑھی مارو کہ مٹی پیچھے والے کے منہ پہ پڑے ۔ دیکھنے والے سمجھیں کہ یہاں سے انسان نہیں گھوڑے گزرے ہیں "
ظاہر ہے اتنے زور زور سے پاوں مارنے پڑیں اور سر پر ہیلمٹ بھی ہو تو " بیچارہ دماغ " آگے پیچھے بھی ہو سکتا ہے ۔ مجھے کیپٹن صاحب پر بہت ترس آتا ہے ۔ ایک عشق نے کیا مٹی خراب کردی اسکی ۔ فوج کی نوکری جاری رہتی تو شان و شوکت برقرار رہتی ۔ اسوقت کندھوں پر کتنے ہی اعزاز چمک رہے ہوتے ۔ سینے پر بھی تمغے سجے ہوتے ۔ صحت بھی قابل رشک ہوتی ۔ اب غور سے دیکھیں تو ترس آتا ہے ۔ منہ سے بے اختیار نکل پڑتا ۔
" اللہ اسکی خطائیں معاف کردے ۔ اتنا رسوا نہ کر "
بیچارہ گھر میں جس حال میں ہو گا ، وہ بھی چہرے پر مظلومیت کی شکل میں ٹپک رہا ہوتا ہے ۔ لوگوں نے بھی اس پر تضحیک کے نشتر آزمانا شروع کر رکھے ہیں ۔ کتنا خوبصورت جوان ہو گا کہ وزیراعظم کا اے ڈی سی بنا دیا گیا ۔ اور اس پر امیر زادی نے دل وار دیا ۔ اب ایسے لگتا ہے کہ جیسے تازہ تازہ چرس پینا شروع کردی ہو ۔ عجیب عجیب باتیں اسکی شخصیت کے کرب کی کھلی عکاسی کر رہی ہے ۔ اب ستم بالائے ستم ، حکومتی اداروں نے بیچارے کو کرپٹ ثابت کرنے کیلئے ڈنڈا اٹھا لیا ہے ۔ کیا ہوا ، وہ تو بہتی گنگا کے کنارے بیٹھا تھا ، تھوڑے بہت ہاتھ دھو لئے ہونگے ۔ اتنی جرات تو کوئی بھی کر گذرے گا ۔ فوجی بھائی ہے ، اسکے کورس میٹ میں سے کوئی تو اسکی مدد کو پہنچے ۔ کوئی تو مسکراہٹ اسکے چہرے پہ آ جائے ۔
قوم اسکی حالت پر کچھ تو رحم کرے ۔
آزاد ھاشمی
Wednesday, 28 March 2018
بیچارہ کیپٹن صفدر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment