" سجدہ "
ابلیس کو بہت زعم تھا کہ اسکی جبین کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے زمین و آسمان کے چپہ چپہ پر سجدے کئے ۔ کوئی لمحہ ایسا نہیں کہ اللہ کی تسبیح و تمحید سے غافل ہوا ہو ۔ آدمؑ کو سجدہ اس کے مزاج پر گراں تھا کہ وہ آدم جو اسکی نظروں کے سامنے کھنکتی مٹی سے بنایا گیا ہے ، اسے اس جبین سے سجدہ کرے جو اللہ کے سامنے جھکنے کی عادی ہے ۔ شیطان کو دوسرا اعتراض یہ تھا کہ جس نئی خلقت کو اتنی توقیر دی جارہی ہے ، یہ زمین پر جاتے ہی فساد کرے گی ۔ اپنے ہی ہم خلقت کا خون بہائے گی ۔ زمین کے سکون کو برباد کرے گی ۔ ابلیس کو تیسرا اعتراض تھا کہ اگر یہ تخلیق تمحید و تقدیس کیلئے ہے تو ہم جن اور فرشتے اسکے لئے بہت ہیں ۔ کیونکہ یہ تخلیق جب فساد میں مصروف ہوگی تب عبادت ، تسبیح و تقدیس سے غافل ہو جائے گی ۔
کائنات کے خالق نے دو ٹوک فرمایا ۔
" جو میں جانتا ہوں ، اس سے تم سب لا علم ہو "
کئی ہزار سال گذر گئے ۔ وہ راز راز ہی رہا کہ آخر اس سجدے کے اصرار میں کونسا راز پوشیدہ ہے ۔ کئی انبیاء تشریف لائے ۔ کئی رسول مبعوث ہوئے ۔ کہ زمین پر فساد نہ ہو ۔ بھلائی اور نیکی پھیلے ۔ مگر ابن آدم نے وہ سب کچھ کیا جو ابلیس نے خدشات ظاہر کئے تھے ۔ آخر اس راز سے پردہ اٹھنے کا وقت آگیا ۔ ایک طرف شیطان کے چالیس ہزار چیلے ، تیر بھالے کے ساتھ فساد کی انتہاء کرنے کو کھڑے ہیں ۔ دوسری طرف ہر " حی علی الصلاح " پر بچے ، بوڑھے ، جوان جماعت کے ساتھ صفیں باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ ہر کوئی اس انہماک سے سجدہ کر رہا ہے جو فرشتوں کو بھی نصیب نہ ہوا ہوگا ۔ کوئی ایک نماز قضاء نہیں ہوتی ۔ پیاس سے ہونٹ خشک ہیں ، گلے سوکھ گئے ہیں ، زبانوں میں جنبش کرتے ہوئے تکیلف ہو رہی ہے ، مگر اللہ کی تسبیح ، تمحید اور تقدیس میں فرق دکھائی نہیں دے رہا ۔ فرشتوں کے سجدے تو معمول رہتا ہے ۔ نہ جان کا خوف ، نہ امت کی امامت کی ذمہ داری ۔ یہاں سب وہ چھن رہا ہے جو ابن آدم کی ضرورت ہے ۔ شیطان بھی سوچ میں پڑا ہے اور شیطان کے چیلے بھی دیکھ رہے ہیں کہ اللہ نے سجدے کا حکم کیوں دیا ۔ وہ راز آج کھل رہا تھا ۔ پھر وہ لمحہ بھی " کہنہ سال " فلک نے دیکھا ۔ جب خنجر گردن پہ رکھا ہے ، ملعون شیطان کا ملعون پرستار کمر پہ بیٹھا ہے اور سجدے کا محافظ اللہ کے سامنے شکر کا سجدہ کر رہا ہے ۔ نہ اللہ سے شکایت ہے نہ زندگی کیلئے دعا ہے نہ التجا ۔ سجدے میں انہماک کا عالم کہ قاتل اپنے خنجر کو بار بار کند کرتا ہے اور بار بار چلاتاہے تاکہ تکلیف کا اظہار سن سکے ۔ جسم کو تڑپتا دیکھے اور جبیں سجدے سے ہٹے ۔ یہ وہ وقت ہے جو اللہ نے کہا تھا ۔
" جو میں جانتا ہوں ، تم نہیں جانتے "
شیطان فساد کی انتہاء پر تھا ۔ اور سجدہ اپنے عروج کی انتہا پر ۔
سلام اس پاک جبین کو جس نے سجدے کو دوام بخشا۔
آزاد ھاشمی
٣ ستمبر ٢٠١٩
Tuesday, 3 September 2019
سجدہ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment