ڈرتا ہوں
حال دل سنانے سے ڈرتا ہوں
تم ہر بات کو تماشا بنا دیتے ہو
جو بھی ہوک اٹھتی ہے
دبا لیتا ہوں
جو بھی خلش ہوتی ہے
چھپا لیتا ہوں
تمہیں فرصت نہ ملی
کہ سن لیتے مجھکو
اب خود سے کہتا ہوں
خود کو سنا لیتا ہوں
عادت سی ہوگئی ہے تنہائی کی
یاد بھی نہیں
کہ تم سے شناسائی تھی
سوچا نہیں تھا تمہیں
یوں بھول پاوں گا
لاکھ چھیڑو راگ پرانے اب تم
محبت کا ہر راگ بھلا بیٹھا ہوں
کیا بہلائیں گی اب اٹھکیلیاں تیری
خود سے نالاں ہوں
خود سے خفا بیٹھا ہوں
جو بے چین رکھتی تھیں خواہشیں مجھکو
ان سب سے دامن چھڑا بیٹھا ہوں
آزاد ھاشمی
١١ جولائی ٢٠١٨
No comments:
Post a Comment