Thursday, 12 July 2018

ڈرتا ہوں

ڈرتا ہوں
حال دل سنانے سے ڈرتا ہوں
تم ہر بات کو  تماشا بنا دیتے ہو
جو بھی ہوک اٹھتی ہے
دبا لیتا ہوں
جو بھی خلش ہوتی ہے
چھپا لیتا ہوں
تمہیں فرصت  نہ ملی
کہ سن لیتے مجھکو
اب خود سے کہتا ہوں
خود کو سنا لیتا ہوں
عادت سی ہوگئی ہے تنہائی کی
یاد بھی نہیں
کہ تم سے شناسائی تھی
سوچا نہیں تھا تمہیں
یوں بھول پاوں گا
لاکھ چھیڑو راگ پرانے اب تم
محبت کا ہر راگ بھلا بیٹھا ہوں
کیا بہلائیں گی اب اٹھکیلیاں تیری
خود سے نالاں ہوں
خود سے خفا بیٹھا ہوں
جو بے چین رکھتی تھیں خواہشیں مجھکو
ان سب سے دامن چھڑا بیٹھا ہوں
آزاد ھاشمی
١١  جولائی ٢٠١٨




No comments:

Post a Comment