" مقروض بچے "
ایک جائزہ نظر سے گذرا ہے کہ پاکستان کا ہر بچہ ایک لاکھ ستر ہزار روپے کا مقروض ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جس قوم کا ہر بچہ مقروض ہے اس اندھی قوم کو ہر پانچ سال میں انتخابات کی آگ میں کودنے کا شوق کیوں ختم نہیں ہوتا ۔ ہر پانچ سال بعد کھربوں روپیہ اس آگ میں جھونک دیا جاتا ہے ۔ وطن کے یہ خدمتگار ، قوم اور وطن کیلئے فساد ، انارکی اور ہیہجان کی کیفیت پیدا کرنے کے علاوہ کیا کرتے ہیں ۔ قانون تو انگریز بنا کر چلا گیا ، وہی چلتا رہا ہے اور وہی چلتا رہے گا ، پھر یہ سینکڑوں جونکیں کیا کرتی ہیں ۔ جس ملک کا بچہ بچہ مقروض ہے ، اس ملک کے سربراہوں کو چھینک آجائے تو لندن سے ادھر علاج نہیں ہو پاتا ۔ جس ملک کا صدر ، جو کسی بھی اعتبار سے ملک کی کوئی خدمت نہیں کرتا ، کروڑوں کھا جاتا ہے ، اسمبلی ممبران پانچ پانچ لاکھ تنخواہ اور لاکھوں دیگر مراعات کی مد میں کھا جاتے ہیں ۔ کس اہلیت کے تحت ، کس خدمت کے بدلے ۔ مقروض قوم کے بچے ، بوڑھے حتی کہ خواتین مہینوں دھرنے دئیے بیٹھے رہتے ہیں ، ایسی قوم کا مقروض ہونا کونسا تعجب ہے ۔ جب قومیں شعور سے عاری ہو جاتی ہیں تو وہ فضولیات کا شکار ہو جاتی ہیں اور جب فضولیات کی عادت پختہ ہو جائے تو پھر افلاس گھر کر لیتی ہے ۔ اور جب قوموں کو شعور آجاتا ہے تو ایک لاکھ ستر ہزار کا قرضہ اتارنا مشکل نہیں ہوتا ۔ اگر انتخابات پر کھربوں روپے اڑانے کی بجائے یہی قوم کی ہمدردی کا راگ الاپنے والے سیاستدان ، قوم کا قرض اتارنے کیلئے دے دیں اور اپنی انتخابی مہم میڈیا پر ایک تقریر تک محدود کر دیں ، تو قوم کا کتنا بوجھ ہلکا ہو جائے گا ۔ غیر ضروری اخراجات اور مراعات کو لینے کا رحجان ختم ہو جائے تو کیا یہ قرضہ ادا کرنا مشکل ہوگا ؟
سیاستدان قوم کے شعور کو سلب کر کے اپنی کامیابی کی بنیاد رکھتے ہیں ۔ کیونکہ کوئی با شعور اس کی اجازت نہیں دیتا کہ اپنے بچوں کے حلق سے نوالہ چھین کر کسی کتے کے آگے ڈال دیا جائے ۔ انتخابات پر خرچ ہونے والا سارا پیسہ قوم کا ہے ، وطن کا ہے ، جو سیاستدان خرچ کر کے پھر قوم کے بچے بچے کا خون نچوڑ کر پورا کرتے ہیں ۔ دانشوروں کو چاہئیے کہ قوم کو شعور دیں اور انتخابات کی عیاشی ، اسمبلی ممبران اور حکمرانوں کی عیاشی کا احتساب کریں ۔ وگرنہ قرضہ بڑھتا رہے گا ۔ یاد رہے مقروض قومیں رفتہ رفتہ اپاہج ہو جاتی ہیں پھر بیساکھیاں انکا مقدر بن کر رہ جاتی ہیں ۔
آزاد ھاشمی
١٤ جولائی ٢٠١٨
Saturday, 14 July 2018
مقروض بچے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment