کسی بھی جرم سزا ملنا انسانیت کی بقا کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے - عدالت کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ان عوامل کا پوری دیانتداری سے جائزہ لے جن کی بنا پر جرم سر زد ہوا - ایک قتل جیسے جرم کی تفتیش میں کسی بھی جانبداری عدل ا انصاف کا قتل ہے - ایک شخص جس نے اپنے جذبہ ایمانی پہ قتل کیا , یقینی طور پہ مقتول نے اس کے ایمان پر گزند لگائی , جس سے وہ مشتعل ہوا - کسی کے ایمان پر اشتعال انگیز بات کرنا بھی ایک جرم ہے , اور دوسرا ترغیب جرم بھی ہے - گویا مقتول نے جرم بھی کیا اور ترغیب جرم بھی -
اب چونکہ مقتول ایک با اثر سیاستدان , نامور وکیل اور گورنر تھا , قاتل ایک معمولی سپاہی , تو فیصلہ میں جھکاؤ با اثر لوگوں کی طرف ہونا , ہماری عدالتوں کی روایت ہے -
مبصرین ایک طرف تو سزایے موت کو ظلم کہتے ہیں , دوسری طرف اس پھانسی کو حق سمجھتے ہیں - قاتل کو پھانسی ملنا ٹھیک ہے تو پھر ان سب قاتلوں کا کیا ہوا , جنہوں نے سر عام قتل کیے اور رہا ہو گئے -
اسلیے کہ قاتل با اثر تھے اور مقتول غریب تھے - کیا جواب ہے ہمارے ناقدین کے پاس , کیا جواز ہے ہماری عدالتوں کے پاس -
یاد رہے جن قوموں سے عدل اٹھ جاتا ہے , وہ قومیں آفات کا شکار بن جاتی ہیں -
آزاد ہاشمی
Wednesday, 1 March 2017
حب نبی پر سزائے موت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment