" عدالت کے محفوظ فیصلے "
ہو سکتا ہے کہ یہ بھی اندھے قانون کی کوئی مجبوری ہو ۔ وگرنہ ہر جرم کا تعلق معاشرے سے ہوتا ہے ، اور معاشرے کو جرم سے پاک کرنے میں جتنی جلدی کی جائے ، اتنی بہتر ہوتی ہے ۔ اگر مجرم اور جرم کا تعین ہو چکا تو فیصلے کو محفوظ کرنا ، ایک مذاق سا دکھائی دیتا ہے ۔
جج صاحبان اور متبرک عدالتوں پر ایک ایک لفظ سوچ سمجھ کر بولنے کا رواج ، اس وقت سے لاگو ہے جب سے انگریز بہادر کا راج رہا ۔ جو کہ انصاف اور عدل کی راہ میں اصل پیچیدگی ہے ۔ ہر وہ عدالت ، ہر وہ جج جو فیصلوں میں مصلحت اختیار کرے ، نہ عزت کے لائق ہے اور نہ ہی مہذب معاشرے کی ضرورت ۔
کتنے ایسے فیصلے ہوتے ہوں گے ، جن کو محفوظ کر لیا جاتا ہو گا اور اسی حفاظت میں جنات کے عمل سے تبدیل ہو جاتے ہونگے ۔ چھوٹی عدالت کی حماقت پر کبھی بڑی عدالت نے کوئی اقدام نہیں کیا ۔ یہی وہ بیج ہے ، جس سے ایک پودا پیدا ہوا اور پھر یہ بیج ہر جگہ اگ آئے ۔ پورے کا پورا معاشرہ غیر محفوظ ہو گیا ۔ حتیٰ کہ ججوں کے اپنے بیٹے اغوا ہونے لگے ۔
جرم ہے تو جرم کہو ۔ فیصلے کو محفوظ مت کرو ۔ کیا پتہ اس دوران کتنے اور دوسرے جرم سر زد ہو جائیں ۔
خون کی لذت سے آشنا یہ مجرم نہ جانے کتنے اور خون کر ڈالیں ۔
ازاد ہاشمی
Monday, 13 March 2017
عدالت کے محفوظ فیصلے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment