" جا میری گڑیا جا جا جا "
" مت رو ابا ۔ مت رو " سردیوں کی ٹھنڈی رات میں ہسپتال کے فرش پر لیٹی اور ہوئی بیٹی باپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی ۔ مقدر کا ستایا ہوا باپ بیٹی کی آخری خواہش بھی پوری کرنے سے قاصر تھا ۔ وہ کیسے آنسو روک لیتا ۔ یہی تو اسکا سارا سرمایہ تھا ۔
" میری بات سن ابا ۔ میں مر گئی تو تیری ساری مشکلیں ختم ہو جائیں گی ۔ میری دوائیں خریدنے کے پیسے نہیں تیرے پاس ۔ میرا جہیز کہاں سے لائے گا ۔ کہاں سے لائے گا میرا بر جو خالی ہاتھ مجھے قبول کرے گا ۔ تیرے پاس تو دو گز زمین بھی نہیں جو بیچ لے گا ۔ میرے کفن دفن کا فکر مت کر ، یہ تو خیراتی ہو جائے گا ۔ بس علاج کے لئے کوئی خیرات نہیں دیتا ، کفن کے لئے مل جاتی ہے ۔ میری فکر مت کر ۔ میں تو ماں کے پاس جا رہی ہوں ۔"
وہ مسلسل روئے جا رہا تھا ، آنسووں میں دریا کی روانی تھی ۔ کبھی بیٹی کے سر پہ ہاتھ پھیرتا کبھی گال تھپتھپاتا ۔
" میں جاتے ہی بات کروں گی اللہ سے ۔ پوچھوں گی ۔ ضرور پوچھوں گی اللہ پاک سے ۔ اگر علاج کے پیسے نہیں دیتا تو بیمار کئے بغیر کیوں نہیں مار دیتا ۔ کیوں دیتا ہے غریبوں کو بچے ۔ کیوں ستاتا ہے ماں باپ کو اولاد کی موت کا دکھ دے کر ۔ پوچھوں گی ابا "
" چپ کر ۔ بولے جا رہی ہے ، بکے جا رہی ہے ۔ تجھے کچھ نہیں ہو گا ۔ میں اللہ سے تیری زندگی مانگ لونگا ۔ وہ میری سنے گا "
باپ نے بیٹی کو تسلی دی ۔
" دیکھی ہیں تیری دعائیں ، میرے علاج کے پیسے کب سے مانگ رہے ہو ، کیا مل گئے جو زندگی مل جائے گی ۔ بس چھوڑ اور محھے جانے دے ۔ ہاں اپنا خیال رکھنا ، اب تیری پینو نہیں ہو گی ، جو بلا بلا کر روٹی دے گی ۔ خود کھا لیا کرنا ۔ اب زیادہ مزدوری مت کرنا ۔ اب کونسا جہیز بنانا ہے ۔ اکیلے ہو دو روٹیاں تو تھوڑی محنت سے مل جایا کریں گی ۔ اچھا ابا لوری تو سنا دو ۔ وہ والی ۔ جا میری گڑیا جا جا جا ۔ وہ جو تجھے کبھی بھی سنانی نہیں آتی تھی "
بیٹی نے ہاتھوں میں دم توڑتے آخری خواہش کی تھی ۔ اب وہ ہر وقت گنگناتا رہتا ہے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
Tuesday, 14 March 2017
جا میری گڑیا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment