" مفت کی سر درد "
بہت سارے معاملات ایسے ہوتے ہیں ، جن پر اگاہی ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ یہ اور بھی اچھی بات ہے کہ ہم ان معاملات کو دوسروں تک پینچائیں تا کہ شعور بڑھے ۔ مگر کبھی کبھی فروعی معاملات زیادہ توجہ حاصل کر لیتے ہیں اور اصولی معاملات دب کر رہ جاتے ہیں ۔ یہ وہ سر درد ہے جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ۔ بلا وجہ کی مصروفیت اور مغز ماری ۔ جیسے نواز شریف نے کرپشن کی ، زرداری لوٹ کے لے گیا ، پولیس کرپٹ ہے ، سیاستدان نا اہل ہیں ، عدالتیں بکاو ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ یہ مسلمہ حقائق ہیں ۔ ان پر دوسری رائے قائم کرنے کی تگ و دو صرف وہی کریں گے جو اسی تھالی کے چٹے بٹے ہیں ۔ ان سے مغز ماری محض وقت کا ضیاع ہے ۔ یہاں کا سارا سسٹم مراعات یافتہ ہے ، جنرل ریٹائر ہو کر بھی جنرل رہے گا ۔ طاقتور کرپشن کے بعد بھی پروٹوکول کا حقدار ہے ، جج پیسے لے کر جو بھی لکھدے اسکی صوابدید ہے ۔ ہمیں اگر توجہ دینی ہے تو اس سسٹم کو بدلنے کیطرف ۔ انقلاب کیلئے تعداد کی ضرورت نہیں ہوتی ، ایک سے جذبے کے لوگ درکار ہوتے ہیں ۔ جو اپنے مشن سے مخلص ہوں ۔ یہ لوگ عام سطح سے اٹھتے ہیں ۔ انقلاب اوپر کو نیچے لانے اور برائی کو دفن کرنے کا نام ہوا کرتا ہے ۔ اس پر توانائیاں درکار ہیں ۔ کبھی کبھی چھوٹی سی چنگاری آگ کا ایسا الاو بن جاتی ہے ، جو بجھانا ممکن نہیں رہتا ۔ دو قومی نظریہ کی ایک سوچ آزادی کی تحریک بن گئی ۔ یہ تاریخ کی حقیقت ہے ۔ مدعا یہ ہے ، کہ بگڑے ہوئے طاقتور طبقے کو بدلنا ممکن نہیں ۔ پسے ہوئے طبقے کو ہمت دلانا ممکن ہے اور یہی حدف ہونا چاہیئے ۔ یہی لوگ متحرک ہونگے تو کاخ امراء میں جنجھلاہٹ ہو گی . یہی اٹھیں گے تو نظام بدلے گا ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
Tuesday, 14 March 2017
مفت کی سر درد
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment