" رحم فرما ، اے رحیم "
ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہم نے ہدایت کی راہ چھوڑ کر گمراہوں کی راہ اختیار کر لی ۔ تیرے سرکشوں سے دوستی کر لی ، تیرے نظام کو چھوڑ کر یہود کے نظام کو اپنا لیا ۔ اب یہود کے ذہن والے لوگ ہم پر مسلط ہو گئے ۔
اقرار کرتے ہیں کہ ہم نے تیرے حبیب کے اسوہ سے کچھ حاصل نہیں کیا ، محض میلاد مناتے رہے ۔ تیری کتاب ، جو مکمل رہنمائی ہے ، سمجھنے سے پہلو تہی کرتے رہے ۔ تیرے صالحین کی راہ کو سمجھنا بے سود خیال کیا ۔ حسینیت ، زندگی تھی اسے چھوڑ کر یزیدیت کی موت قبول کر لی ۔
ہم سے خطائیں ہو رہی ہیں ، ہم نے بے دین ، بد دیانت ، گناہ کبیرہ کے مرتکب افراد کو اپنا رہنما مان لیا ، ہم نے تیرے دین سے فرار اختیار کر کے انسانی اختراعات کو دین مان لیا ، تیرا دستور چھوڑ دیا ، اپنا دستور بنا ڈالا ، تو نے سود کو حرام کیا ہم نے اپنی معیشت کی بنیاد بنا ڈالا ، تو نے تفرقات سے منع فرمایا ہم نے تفرقات کو مذہب کی جگہ دے دی ۔
ہم اقرار کرتے ہیں ، کہ یہ بد امنی ، یہ خوف ، یہ قتل و غارتگری ، یہ دہشت گردی ، ہمارا اپنا لگایا ہوا بیج ہے ۔
ہم پر رحم فرما ۔ تو رحیم ہے ۔ ہم پر کرم فرما تو کریم ہے ، ہمارے نصرت فرما ، ہمیں ہدایت کی روشنی عطا فرما ۔ ہم جس دلدل میں پھنس گئے ہیں ، اس سے نکال دے ۔ ہمیں آنے والی نسلوں کا مجرم بننے سے نجات دے ۔
تجھے تیری عظمت کا واسطہ ۔
ازاد ہاشمی
Saturday, 18 March 2017
رحم فرما ، اے رحیم
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment