Monday, 13 March 2017

مسجد اور عدالت

" مسجد اور عدالت "
ایک لبرل خاتون ،  جس کو نہ جانے کیوں اہمیت دے رکھی ہے  , فرماتی ہیں ۔
، "عدالت میں جج نہیں مولوی بیٹھا ہے، عدالت کو مسجد بنایا ہوا ہے، جسےامام مسجد ہونا چاہیے، وہ اعلیٰ عدلیہ کا جج بن جاتا ہے۔"
پہلے تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ عدلیہ  ، اعلیٰ کب بنتی ہے ، اور جج کا اصل کردار کیا ہونا چاہئے ۔ ہر جج ، ایک حلف اٹھاتا ہے اور وہ حلف دستور مملکت کی پوری طرح سے اطاعت ہے ۔ دستور مملکت کے مطابق ، ہمارا ملک اسلامی دستور کے تابع ہے ، اور ہم قران و سنت کی اتباع پر دستوری طور پر عمل پیرا ہو کر ہی اپنے حلف کا حق ادا کر سکتے ہیں ۔ 
حیرانی اس بات کی ہے ، کہ محترمہ نے قانون کی چند کتابیں پڑھ کر ، مخالف وکیل کو چت کرنے کے چند گر سیکھ کر کونسا تیر ما لیا کہ خود کو عقل کل سمجھے بیٹھی ہیں ۔ مسجد میں سیکھا جانے والا علم اور انگریز کی کتابوں سے سیکھا جانے والے علم کا موازنہ کیسے ممکن ہے ۔ جو محترمہ کو نالاں کر رہا ہے ۔
کیا محترمہ نے جو قانون پڑھا ، اس میں لکھا ہے کہ آپ جس کی چاہو پگڑی اچھال دو ۔ یقیناً نہیں ۔ جب کسی ایک انسان کی پگڑی اچھالنا جرم ہے تو پھر اللہ کے حبیب کی شان میں گستاخی جرم کیوں نہیں ۔
کونسا لبرل نظام ہے جو اخلاقی بیہودگی کو پروان چڑھانے کا درس دیتا ہے ۔ کیا محترمہ اپنے بچوں سے اپنی ذلت کو قبول کر لیتی ہیں ۔ کیا انکے گھر میں جنگل کی طرح آزادی کا نظام ہے یا تہذیبی اقدار کا طرز زندگی ۔ کیا گوارہ کر لیں گی کہ کوئی انکی ماں پر تہمت لگا دے ۔ یقیناً کبھی نہیں ۔ پھر شان رسول ص پر ایسی گفتگو کی پشت پناہی کیوں ۔
محض شہرت کیلئے ، اللہ سے مخاصمت ۔ اس سے شہرت نہیں ،رسوائی ہی ملے گی ۔
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment