" پولیس کی حفاظت کرو "
ایک اور دھماکہ ، کتنے ہی گھروں میں سوگ ، کتنے ماوں کے جھولیاں اجڑ گئیں ، وہی روایتی بیان ، وہی دہشت گردی کو جڑسے اکھاڑنے کا عزم ، وہی جان سے جانے والوں کے قربانی پر چند نوٹوں کی دان ، وہی بے حسی ۔ کب تک ہوتا رہے گا یہ کھیل ۔ آخر یہ آگ کب تک یونہی جلتی رہے گی ۔ کتنے اور گھر اجاڑنے کا انتظارباقی ہے ۔ کون ذمہ دار تھا سیکورٹی کا ۔ کیسے پہنچ جاتے ہیں دہشت گرد ہر ٹارگٹ پہ ۔ کہاں ہیں وہ ذہین و فطین پولیس افسران ، جو اپنے گھر کی حفاظت نہیں کر سکتے ۔ کون پوچھے گا ان سے ، جن کی گردنوں میں سریہ ہے ۔ وردی کی فروعنیت دماغوں سے نکلے بغیر حل سمجھ نہیں آئیگا ۔ ایسےلگتا ہے کہ وہ دن بہت قریب ہے ، جب اپیل ہو گی کہ پولیس تمہاری اپنی ہے ، اسکی حفاظت کرو ۔ یا اللہ یا رسول پولیس ساری بے قصور ، کی چاکنگ ہوا کرے گی ۔ یہ مضحکہ خیزی نہیں ، باعث شرم ہے اور سوالیہ نشان ہے پولیس کے پورے ادارے کی اہلیت پر ۔ یہ صلہ ہے ان جھوٹے مقدمات کا ، اس تشدد کا ، اس نا انصافی کا جو پولیس نے شرفاء اور بے قصور لوگوں پر روا رکھا ہے ۔ یہ اس نفرت کا اظہار ہے جو لوگوں کے دلوں میں بس چکی ہے ۔ لیکن ایک بار پھر موت ان سروں پر کھیل گئی ، جو مجرم نہ تھے ، پھر پھول ہی مسلے گئے ، کانٹے پھر بھی شاخوں پہ سجے ہوئے ہیں ۔
اگر راہ نہیں بدلی جاتی تو انتقام میں اندہے اوربھی وحشی ہوتے جائیں گے ۔ شائد یہ جسموں پہ بارود باندھنے والے کسی پولیس والے کے لگائے ہوئے زخموں کا انتقام ہوں ۔ امن، عدل و انصاف کا پھل ہوتا ہے ۔ جبر و استبداد کا پھل قہر اور آگ ہوتا ہے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
Tuesday, 14 March 2017
پولیس کی حفاظت کرو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment