" بیوپاری "
تجارت انبیاء کا پیشہ ہے اور ایماندار تاجر کیلئے جنت کی بشارت ہے ۔ یہاں موضوع " تاجر " نہیں ، بلکہ "بیوپاری " ہے ۔ بیوپاری معتبر بھی ہو سکتا ہے اور گھٹیا بھی ۔ اسکا انحصار پیشے اور جنس کے لین دین پر ہے کہ کوئی معتبر ٹھہرتا ہے یا نیچ ۔
سیاست کا لین دین " بیوپار " ہی رہا ہے ، جسے کبھی عوام کی خدمت کہا گیا ، کبھی وطن کی اور کبھی دین کی ۔ یہ وہ بیوپاری ہیں جنہوں نے ہمیشہ گھٹیا بیوپار کیا ، کبھی لوگوں کا اعتماد خریدا اور پھر عوام کی کمر پہ ایسا خنجر گھونپا کہ لوگ دردناک موت مرتے رہے ۔ ان بیوپاریوں نے وطن کے ایک ایک فرد کو بیچ ڈالا اور معتبر ہو کر اقتدار کی کرسی جھولتے رہے ۔ انہوں نے وطن کا ایک حصہ کاٹ کر اپنے اقتدار کی سیج سجائی ۔ ان بیوپاریوں میں وہ بھی شامل ہیں ، جن کے کندھوں پر چاند ستارے سجے ہوئے تھے اور جنہوں نے وطن کے تحفظ کی قسم بھی کھا رکھی تھی اور جن کی چھاتی پر تمغے سجے ہوئے تھے ۔ وہ بھی وطن کے بہادر سپوتوں کو فرض کے نام پہ دوسرے کی آگ میں جھونکتے رہے ۔ کسی کو نہیں پتہ کہ انہوں نے کیا کمایا اور قوم نے کیا گنوایا ۔
اب نئے سیاسی بیوپاری ، اک نئے روپ میں ، ایک نئے بیوپار کے ساتھ کہ ایمان بیچو ، اسکے بدلے خوشحالی ملے گی ۔ ایک نئے اشتہار کے ساتھ کہ ایمان کی بات چھوڑو گے تو کافر امداد دیں گے ۔ کس کے ساتھ سودا ہوا ، کیا سودا ہوا ، کس کو فائدہ ملے گا ، یہ سب ابہام ہے مگر یہ واضع ہے کہ نقصان انکو ہو گا جو کہتے ہیں کہ ملک اسلام کے نام پہ حاصل ہوا ، یہاں قرآن کا قانون لاگو کرو ۔
آزاد ھاشمی
١٦ دسمبر ٢٠١٧
Wednesday, 19 December 2018
بیوپاری
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment